قومی خبریں

ملیکارجن کھڑگے کا آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ، سردار پٹیل کا حوالہ، بی جے پی کا سخت ردعمل

سردار پٹیل نے خود اس وقت کے سرکاری ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر دوبارہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم زہریلی نظریات کی نمائندہ ہے اور اس پر سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی پابندی لگائی تھی۔

کھڑگے نے کہا کہ، "میری ذاتی رائے میں آر ایس ایس پر پابندی ہونی چاہیے، کیونکہ سردار پٹیل نے خود اس وقت کے سرکاری ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے 9 جولائی 2024 کو اس پابندی کو ہٹا دیا تھا، جسے فوری طور پر دوبارہ نافذ کیا جانا چاہیے۔

کھڑگے نے سردار پٹیل کے ایک مشہور خط کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے آر ایس ایس پر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد جشن منانے کا الزام لگایا تھا۔انہوں نے کہا، "4 فروری 1948 کو سردار پٹیل نے لکھا تھا کہ آر ایس ایس نے گاندھی جی کے قتل پر مٹھائیاں تقسیم کیں، اس کے بعد حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سردار پٹیل کے مطابق آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کی انتہاپسندانہ سوچ نے ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا جو گاندھی جی کے قتل کا باعث بنا۔

دوسری جانب، بی جے پی نے کھڑگے کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دہائیوں تک سردار پٹیل کے کردار کو نظرانداز کرتی رہی ہے اور اب ان کا نام سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان شہزاد پوناوالا نے کہا، "کانگریس کا مطلب اب انڈین نازی کانگریس ہے۔ آر ایس ایس پر عدالت نے پابندی ہٹا دی تھی، کیونکہ یہ ایک غیرسیاسی تنظیم ہے۔ لیکن کانگریس ہمیشہ ملک کے خیرخواہوں کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، چاہے وہ پی ایف آئی ہو، ایس ڈی پی آئی ہو یا ایم آئی ایم۔”

یاد رہے کہ آج سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جینتی ہے، جسے پورے ملک میں راشٹریہ ایکتا دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سردار پٹیل کو ہندوستان کے اتحاد کا معمار مانا جاتا ہے، جنہوں نے آزادی کے بعد متعدد ریاستوں کو بھارت میں ضم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button