الہ آباد ہائی کورٹ نے عباس انصاری کو بڑی راحت دی، ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس میں کارروائی اگلی سماعت تک معطل
عدالت نے اس کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو اگلی سماعت تک روک دیا
الہ آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مافیا لیڈر اور سابق ایم ایل اے مختار انصاری کے بیٹے، ماؤ کے موجودہ ایم ایل اے عباس انصاری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ یہ کیس ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ عدالت نے اس کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو اگلی سماعت تک روک دیا ہے۔
عباس انصاری پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بغیر اجازت ایک عوامی جلسہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ماؤ ضلع کے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں عباس انصاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
یہ واقعہ 3 مارچ 2022 کا ہے، جب سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے امیدوار عباس انصاری نے پہاڑ پورہ میدان میں رات 8:30 بجے ایک غیر مجاز انتخابی میٹنگ منعقد کی تھی۔ اس دوران انصاری نے مبینہ طور پر ماؤ انتظامیہ کو دھمکی دی کہ "الیکشن کے بعد حساب کتاب کریں گے اور سبق سکھائیں گے۔”
اگلے ہی دن، 4 مارچ 2022 کو، سب انسپکٹر گنگا رام بند نے عباس انصاری، ان کے چھوٹے بھائی عمر عباس انصاری، اور 150 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
عباس انصاری کی جانب سے چارج شیٹ منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی گئی، جس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے کارروائی کو اگلی سماعت تک ملتوی کر دیا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 31 دسمبر 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی جسٹس سمیر جین کی سنگل بنچ کے سامنے ہوئی، جبکہ انصاری کی پیروی ایڈوکیٹ اوپیندر اپادھیائے نے کی۔قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے میں عباس انصاری کی اسمبلی رکنیت بحال کر دی گئی تھی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے 8 ستمبر 2025 کو اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کیا تھا۔



