قومی خبریں

ریاستی الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی، ووٹر لسٹ سے لاکھوں جعلی نام ہٹانے کی تیاری

50 لاکھ جعلی ووٹروں کا انکشاف!

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش میں آئندہ پنچایتی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی جانچ میں چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کو پتہ چلا ہے کہ کئی اضلاع میں لاکھوں ووٹروں کے نام ایک ہی فہرست میں دو یا تین بار درج ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کئی افراد مختلف وارڈوں میں بیک وقت ووٹر کے طور پر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیلی بھیت، وارانسی، بجنور اور ہاپوڑ جیسے اضلاع میں سب سے زیادہ ووٹر ایسے پائے گئے ہیں جن کے نام فہرست میں بار بار لکھے گئے ہیں۔ حیران کن طور پر صرف پیلی بھیت کے پورن پور بلاک میں ہی تقریباً 97 ہزار ووٹروں کے نام ایک سے زیادہ جگہ درج ہیں۔ یہ اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

ریاستی الیکشن کمیشن نے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ووٹر لسٹ کی تصحیح کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ “اسپیشل انٹینسیو ریویژن” (SIR) کے تحت ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بلاک وار ڈپلیکیٹ ووٹروں کی فہرست تیار کریں اور گھر گھر جا کر تصدیق کا عمل شروع کریں۔ مقصد یہ ہے کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ مکمل طور پر درست اور شفاف بنائی جا سکے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے 826 ترقیاتی بلاکوں میں سے 108 بلاک ایسے ہیں جہاں 40 ہزار سے زیادہ ووٹر دوہرے طور پر درج ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ نام وارانسی کے اراضی لائن بلاک میں 77,947، غازی پور کے سید پور میں 71,170، وارانسی کے پنڈرا میں 70,940 اور جونپور کے شاہ گنج سوندھی بلاک میں 62,890 پائے گئے ہیں۔ ان اضلاع کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ انتخابی فہرست سے جعلی نام فوری طور پر حذف کیے جا سکیں۔

ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر تمام اضلاع میں مکمل چھان بین کی جائے تو تقریباً پچاس لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ افسر نے کہا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی جانچ کی کوششیں کی گئی تھیں، مگر اس بار پہلی بار اتنے وسیع پیمانے پر جانچ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی گڑبڑی کو ختم کیا جا سکے۔

ریاستی الیکشن کمیشن نے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق جلد از جلد مکمل کریں۔ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ جعلی یا دوہرے ووٹر کسی بھی قیمت پر انتخابی عمل میں شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے گرام پنچایت سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو ووٹروں کی شناخت اور ان کے دستاویزات کی جانچ کریں گی۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے بلاک وار رپورٹیں جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی مقرر کر دی ہے۔ حکام کو یقین ہے کہ اگر یہ عمل وقت پر مکمل ہو گیا تو آئندہ پنچایتی انتخابات ریاست کی تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف انتخابات ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button