قومی خبریں

انیل امبانی کے ریلائنس گروپ پر ای ڈی کی کارروائی، 3,084 کروڑ روپے کے اثاثے قرق

ممبئی کے پالی ہل بنگلے سے لے کر دہلی اور پونے تک جائیدادیں ضبط

ممبئی: (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے خلاف بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے تقریباً 3,084 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے قرق کر لیے ہیں۔یہ کارروائی پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کی دفعہ 5(1) کے تحت 31 اکتوبر 2025 کو انجام دی گئی، جس کے تحت چار الگ احکامات کے ذریعے ملک بھر میں پھیلی درجنوں املاک کو ضبط کیا گیا۔

ای ڈی کے مطابق قرق شدہ املاک میں ممبئی کے باندرہ ویسٹ کے پالی ہل میں واقع انیل امبانی کی رہائش گاہ بھی شامل ہے، جو ان کی سب سے نمایاں جائیدادوں میں شمار ہوتی ہے۔اس کے علاوہ نئی دہلی کے ریلائنس سینٹر کی عمارت، نوئیڈا، غازی آباد، پونے، تھانے، حیدرآباد، چنئی (کانچی پورم سمیت) اور مشرقی گوداوری میں موجود رہائشی یونٹ، آفس کیمپس اور پلاٹس بھی قرق کیے گئے ہیں۔

ای ڈی کی تحقیقات کا مرکز ریلائنس ہوم فائنانس لمیٹڈ (RHFL) اور ریلائنس کمرشل فائنانس لمیٹڈ (RCFL) ہیں، جن پر عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں نے جو سرمایہ عوام سے جمع کیا، وہ گروپ کی اندرونی کمپنیوں کے ذریعے دیگر لین دین میں ڈائیورٹ کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق یہ پورا معاملہ یس بینک کے توسط سے انجام دیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2017 سے 2019 کے دوران یس بینک نے RHFL میں 2,965 کروڑ روپے اور RCFL میں 2,045 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔تاہم دسمبر 2019 تک یہ سرمایہ کاری نان پرفارمنگ ہو چکی تھی۔اس دوران RHFL پر 1,353.50 کروڑ روپے اور RCFL پر 1,984 کروڑ روپے کی بقایاجات سامنے آئیں۔

ریلائنس کمیونیکیشن میں بھی 13,600 کروڑ کا گھوٹالہ

ای ڈی نے اپنی تحقیقات کا دائرہ ریلائنس کمیونیکیشن لمیٹڈ (RCom) اور اس سے منسلک کمپنیوں تک بڑھا دیا ہے۔ابتدائی جانچ میں 13,600 کروڑ روپے سے زیادہ کی مبینہ قرض دھوکہ دہی سامنے آئی ہے۔
ایجنسی کے مطابق ان میں سے 12,600 کروڑ روپے مختلف اداروں کو غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے جبکہ 1,800 کروڑ روپے دیگر گروپ کمپنیوں تک فکسڈ ڈپازٹس اور میوچل فنڈز کے ذریعے پہنچائے گئے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق جائز کاروباری لین دین کی آڑ میں بل ڈسکاؤنٹنگ کے طریقے کا غلط استعمال کیا گیا تاکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے رقم کو مختلف کمپنیوں تک منتقل کیا جا سکے۔ایجنسی نے کہا کہ وہ ’’داغدار اثاثوں کی قرقی‘‘ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاکہ عوام کے مفاد میں غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقم کی وصولی ممکن ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button