پھیپھڑے کمزور ہیں تو دہلی چھوڑ دیں، ورنہ آلودگی خاموشی سے جان لے لے گی” — ڈاکٹر رندیپ گلیریا
"دہلی کی فضائی آلودگی خاموشی سے لوگوں کی جان لے رہی ہے، یہ کووڈ سے زیادہ خطرناک ہے" — ڈاکٹر رندیپ گلیریا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہر سال سردیوں میں زہریلے اسموگ کی چادر میں لپٹ جاتی ہے، لیکن اس سال صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ایمس کے سابق ڈائریکٹر اور معروف پھیپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کو اس وقت ایک صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے، جو شہریوں کے پھیپھڑوں، دل اور دماغ کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔
ڈاکٹر گلیریا نے بتایا کہ دہلی کی ہوا کا معیار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق جن لوگوں کے پھیپھڑے کمزور ہیں، انہیں اگر ممکن ہو تو شہر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر چھوڑنا ممکن نہ ہو تو انہیں لازمی طور پر ماسک پہننے، ایئر فلٹر استعمال کرنے اور ڈاکٹری ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ “دہلی کی فضائی آلودگی خاموشی سے لوگوں کی جان لے رہی ہے، اور یہ کوویڈ۔19 سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔”
ڈاکٹر گلیریا کے مطابق دہلی کے اسپتالوں میں سانس کی تکلیف، دمہ، کھانسی اور سی او پی ڈی کے مریضوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اثرات عام طور پر آلودگی کی سطح بڑھنے کے چار سے چھ دن بعد سامنے آتے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب نوجوان اور صحت مند افراد بھی لگاتار کھانسی، سینے میں جکڑن اور سانس کی قلت جیسی علامات بتا رہے ہیں۔
ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ آلودگی صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ خون میں شامل ہو کر جسم کو اندر سے متاثر کرتی ہے۔PM 2.5 جیسے ذرات خون میں داخل ہو کر سوزش بڑھاتے ہیں، بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح متاثر کرتے ہیں، اور کولیسٹرول میں اضافہ کرتے ہیں۔ان کے مطابق، فضائی آلودگی ایک خاموش قاتل ہے، جس نے 2021 میں دنیا بھر میں 8 ملین سے زیادہ جانیں لیں — جو کہ کوویڈ سے زیادہ ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کسی بھی موت کے سرٹیفکیٹ پر فضائی آلودگی کا ذکر نہیں کیا جاتا، حالانکہ یہی موجودہ بیماریوں کو موت کی حد تک بڑھا دیتی ہے۔
ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ آلودگی کے باعث لوگ تھکاوٹ، سستی، موڈ میں بگاڑ اور ارتکاز کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ اگرچہ "برین فوگ” کی طبی کیفیت نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ دہلی کی فضا دماغی چستی اور توانائی کو متاثر کر رہی ہے۔
ڈاکٹر گلیریا کے مطابق آلودگی کا سب سے خطرناک اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ بچے تیز سانس لیتے ہیں، زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں اور اسی وجہ سے زمینی سطح کی آلودگی کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ دہلی میں پروان چڑھنے والے بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما رک جاتی ہے، اور ان کی صلاحیت صاف شہروں کے بچوں کی نسبت کم رہتی ہے۔ یہ نقصان مستقل نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ دہلی کے لیے اب یہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی صحت کا بحران بن چکا ہے، جس پر فوری طور پر پالیسی سطح کی کارروائی ناگزیر ہے۔



