قومی خبریں

260 روپے کی چوری کا الزام! الہ آباد ہائی کورٹ نے ٹکسال ملازم کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا

الہ آباد ہائی کورٹ میں ٹکسال کے 260 روپے چوری کیس پر سماعت

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے پریاگ راج سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جہاں الہ آباد ہائی کورٹ نے محض 260 روپے کے سکے چوری کے الزام میں گرفتار ایک ٹکسال ملازم کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام نوئیڈا ٹکسال سے جڑا ہے، جہاں آنند کمار نامی ملازم پر الزام ہے کہ اُس نے 20 روپے کے 13 سکے چُرا لیے۔ یہ واقعہ 19 دسمبر 2024 کو پیش آیا تھا، جب CISF کے سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ بعد ازاں، پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور چارج شیٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرائی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، ٹکسال انتظامیہ نے 3 دسمبر 2024 کو ہی آنند کمار کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری شروع کر دی تھی اور پھر 19 دسمبر کو اسے معطل کر دیا گیا۔

آنند کمار نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی معاملے میں دوہری کارروائی— یعنی فوجداری مقدمہ اور محکمہ جاتی انکوائری — انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس نے کہا کہ چونکہ دونوں کارروائیوں میں ثبوت ایک جیسے ہیں، اس لیے ایک ساتھ چلنے سے تعصب اور ناانصافی پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، حکومتی وکیل پرانجل مہروترا نے دلائل دیے کہ دونوں کارروائیوں کا مقصد مختلف ہے۔فوجداری کیس جرم ثابت کرنے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ محکمہ جاتی کارروائی سرکاری نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے کی جاتی ہے۔ لہٰذا، دونوں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔

جسٹس اجے بھنوٹ کی سنگل بنچ نے تمام دلائل سننے کے بعد واضح کیا کہ چونکہ الزام مرکزی حکومت کے ٹکسال سے کرنسی چوری سے متعلق ہے، اس لیے یہ معمولی معاملہ نہیں ہے۔عدالت نے کہا:“ٹکسال ملک کی معیشت کا بنیادی ادارہ ہے، اس لیے اس کے اندر شفافیت اور اعتماد قائم رکھنا ضروری ہے۔ تحقیقات میں تاخیر احتساب کے فقدان کو فروغ دے گی۔”

اسی بنیاد پر عدالت نے آنند کمار کی درخواست خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ جاتی انکوائری تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔ساتھ ہی عدالت نے محکمہ جاتی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ٹکسال میں کرنسی یا سکے چوری کا معاملہ سامنے آیا ہو، مگر اتنے کم مالی نقصان (محض 260 روپے) پر اتنی سخت عدالتی کارروائی نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ ایمانداری کی خلاف ورزی چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، سرکاری اداروں میں برداشت نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button