تلنگانہ: بس حادثے میں تین بہنیں سمیت 20 افراد جاں بحق، والدین کی دہائی: "میری بیٹیوں کو کون واپس لائے گا؟”
چیوڑلہ میں قیامت خیز حادثہ: 20 زندگیاں ختم، کئی خواب ادھورے
حیدرآباد:تلنگانہ کے چیوڑلہ علاقے میں پیر کی صبح پیش آنے والا خوفناک سڑک حادثہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے دل کو دہلا گیا۔ مرزا گوڑہ کے قریب آر ٹی سی بس اور تیز رفتار ٹپر کے تصادم نے پل بھر میں 20 قیمتی جانیں نگل لیں۔ ان میں تین بہنیں، پانچ طالبات اور ایک دس ماہ کی کمسن بچی بھی شامل تھیں۔
حادثہ صبح تقریباً 6:15 بجے اس وقت پیش آیا جب تانڈور سے حیدرآباد جا رہی ریاستی بس مرزا گوڑہ کے موڑ پر پہنچی۔ مخالف سمت سے آنے والا بھاری ٹپر کنکر سے لدا ہوا تھا، تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کا قابو کھو گیا، اور لمحوں میں ٹکر نے بس کو چکناچور کر دیا۔ تصادم کے بعد ٹپر کا بوجھ بس پر آن گرا، جس سے کئی مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
دردناک مناظر اور رُلادینے والی کہانیاں
یہ سانحہ کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین کر تاریکی چھوڑ گیا۔ تانڈور کی صالحہ اپنی دو ماہ کی بچی کے ساتھ حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ سوشل میڈیا پر ماں اور بچی کی آغوش میں لیٹی نعشوں کی تصویر نے ہر آنکھ نم کر دی۔ صالحہ شادی کے بعد پہلی بار سسرال لوٹ رہی تھیں، مگر وہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن گیا۔
اسی حادثے نے ایک اور ماں، امبیکا، سے اس کی تین بیٹیاں — تنوشا، سائی پریا اور نندنی — بھی چھین لیں۔ تینوں بہنیں انجینئرنگ اور مینجمنٹ کی طالبات تھیں اور حیدرآباد میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
والد یلیّا نے انہیں اسٹیشن چھوڑا، مگر ٹرین چھوٹ گئی، تو وہ انہیں بس اسٹینڈ لے آئے۔ کچھ ہی دیر بعد، فون پر ان کے مرنے کی خبر ملی۔
ان کے والدین امبیکا اور یلیّا اپنی بیٹیوں کی نعشوں کے پاس زار و قطار روتے نظر آئے۔ امبیکا نے روتے ہوئے کہا:”اے خدا! میری تینوں بیٹیوں کو کون واپس لائے گا؟ انہوں نے کون سا گناہ کیا تھا؟”یہ تینوں بہنیں زندگی میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں تھیں، اور اب موت نے بھی انہیں ایک ساتھ لے لیا۔
ان کی بڑی بہن انوشا کی شادی محض 20 دن پہلے 17 اکتوبر کو ہوئی تھی۔اب گھر میں خوشیوں کی جگہ خاموشی اور بین کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
حادثے میں مرنے والی ایک اور طالبہ، اکھیلا ریڈی کی والدہ نے بھی غم سے نڈھال ہو کر کہا:”میں ہمیشہ کہتی تھی کہ سڑک سفر خطرناک ہے، آج وہی خوف سچ ہو گیا، میری بیٹی چلی گئی۔”اکھیلا ریڈی لکشمی نارائن پور گاؤں کی رہنے والی تھیں اور ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، بس اور ٹپر دونوں اوورلوڈڈ تھے۔ خراب سڑک، تنگ موڑ اور تیز رفتاری اس حادثے کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔ تصادم کے بعد ٹپر پر لدی بجری بس پر جا گری، جس سے بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر، وزیر آئی ٹی ڈی سریدھر بابو، اور رکن کونسل پٹنم مہیندر ریڈی موقع پر پہنچے۔ وزراء نے زخمیوں کی عیادت کی اور ہدایت دی کہ پوسٹ مارٹم فوری مکمل کر کے نعشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں۔
وزیر پربھاکر نے کہا:”یہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ سڑکوں کی بدحالی، لاپرواہی اور نظام کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔”انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس 7 لاکھ روپے ایکس گریشیا اور زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ حکومت نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کو سخت سزا دی جا سکے۔
چیوڑلہ اور رنگا ریڈی ضلع کے دیہاتوں میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں خاموشی چھا گئی ہے، اور ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے —”یہ سڑکیں کب محفوظ ہوں گی؟ اور کتنے خواب ایسے ہی ملبے تلے دفن ہوں گے؟”



