سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ماضی کے جھروکے سے: مسلم دنیا کا سائنسداں محمد طارق التیموری

موسیٰ پاشاہ

تاریخِ علم و سائنس کا مطالعہ کرنے والے محققین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ قرونِ وسطیٰ میں عرب دنیا علم، فلسفہ، فلکیات، طب، ریاضی اور تہذیب و تمدن کا عالمی مرکز تھی۔ اسی دور کو آج "عربوں کا سنہری علمی دور” کہا جاتا ہے۔ متعدد تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے پس منظر میں عرب دانشوروں اور سائنسدانوں کی تصانیف نے بنیادی کردار ادا کیا۔

یورپ کی معروف درسگاہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ عرب سائنسدانوں اور فلاسفروں کی عربی میں لکھی ہوئی کتابیں اپنے پریس میں لاتی تھی اور متعلقہ کتاب کے ہر صفحے کا انگریزی میں ترجمہ کرتی تھی۔ مثال کے طور پر انہوں نے عرب سائنسدان محمد طارق التیموری کی 1437ء میں لکھی گئی عربی کتاب فلکیاتی جدول کا 1648ء میں انگریزی ترجمہ کیا تھا۔

اگر ہم یہ کہیں کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز عربوں کے سنہری دور کی کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کی ہوبہو نقالی کرتے ہوئے ممکن ہوا تھا، تو یہ ایک تصدیق شدہ حقیقت ہے، یہ بات عربی کتابوں کی بڑی تعداد سے ثابت ہو جاتی ہے۔ یورپی قومیں عربوں کی لکھی ہوئی یہ کتابیں عرب ممالک سے جمع کرکے لاتی تھیں، اور ان کتابوں کی ایک بڑی تعداد کو یورپیوں نے اپنی ریاستوں میں عربی سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرکے چھاپا اور پڑھایا، چونکہ عربی اس وقت یورپ میں سائنس، فلسفہ، علم و ادب کی زبان تھی۔

ہماری اس بات کی تصدیق یورپ کی سب سے معروف جامعہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے ہوتی ہے، جس کی مغرب سمیت آج ایک دنیا گن گاتی ہے۔ یورپ اسے اپنی سائنسی عظمت اور ترقی کا مینارہ سمجھتے ہیں جس پر انہیں بہت فخر ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ عربی کتابیں لاتی تھی اور اس کے ہر ایک صفحے کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرتی تھی، پھر انگریزی صفحہ کے بالمقابل اصل عربی صفحہ بطور حوالہ جات کے ساتھ یہ ترجمہ شدہ کتابیں شائع کرتی تھی، تاکہ انگریزی ترجمے کے معتبر ہونے کی تصدیق اصل عربی متن ہوسکے اور اس وقت کی غیر ترقی یافتہ انگریزی زبان پر قارئین کا اعتماد بڑھ سکے۔ یہ یورپی دانشور طبقہ عربی زبان پر مکمل عبور رکھتا تھا، چنانچہ عربی زبان تہذیب و تمدن کے لحاظ سے انتہائی ترقی یافتہ زبان تھی۔

فلکیاتی جدول: ایک عربی کتاب جس نے یورپی علمی حلقوں کو متاثر کیا

فلکیاتی جدول نامی کتاب جسے مسلم عرب سائنسدان محمد طارق التیموری نے تقریباً 1437 عیسوی میں لکھا تھا۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی جو اس دور میں سائنس کی زبان تھی۔ یورپیوں نے سنہ 1648ء میں اس کا عربی سے قدیم انگریزی زبان میں ترجمہ کیا، جو سترہویں صدی میں بولی جاتی تھی اور یہ انگریزی ہمارے موجودہ دور کی انگریزی زبان سے بالکل مختلف ہے۔

جیسا کہ بعد میں اس ترجمے میں کئی اضافے اور ترامیم بھی ہوئیں جس کی تصدیق شیکسپیئر کی اصل کتابوں سے ہوتی ہے۔ شیکسپیئر کے لکھے ہوئے ادب کی انگریزی اس سے مختلف ہوتی تھی، کیونکہ اس وقت کی انگریزی زبان لاطینی زبان کے جیسی تھی۔ انگریزی ترجمے کی نگرانی جان بین برج اور جان گریوز کرتے تھے، اور انہوں نے اسے ہنری ہال پریس میں چھاپا تھا۔ یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ یورپی نشاۃ ثانیہ اور ترقی دراصل عرب حکماء کی سائنسی اور تہذیبی کامیابیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی جو انہوں نے عربوں سے حاصل کی تھی۔

عربی علوم اور یورپی ترقی کا تعلق

تاہم موجودہ دور میں یورپی قومیں دنیا کو تہذیب و ترقی کی بنیادی باتیں سکھاتی نظر آتی ہیں، یورپی قومیں عربوں کے اس سنہری علمی کردار کو دھندلا کر دیتی ہیں اور اپنے ان عرب اساتذہ کی مہربانیوں سے انکار کرتے ہوئے احسان فراموش نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی یونیورسٹیاں اور قدیم مکتبہ خانوں میں رکھی ہوئی عربوں کی کتابوں سے بھری ہوئی الماریاں ان کی احسان فراموشی کا جواب دیتی رہیں گی اور ان کی علم و ادب سے نااہلی کو ظاہر کرتی رہیں گی چونکہ یورپی یونیورسٹیوں کی یہ الماریاں عربی کتابوں سے آج بھی بھری پڑی ہیں۔

عربی زبان کی تاریخی استقامت

جہاں تک اس عربی کتاب کے زیر نظر صفحہ پر لکھے گئے عربی متن کا تعلق ہے تو ہم سب آج 588 سال گزر جانے کے باوجود بھی اس عربی کو باآسانی پڑھ سکتے ہیں۔ عربی زبان صدیوں بعد آج بھی ویسی ہی ہے، یہ زبان تبدیل نہیں ہوئی۔ جبکہ انگریز اور باقی یورپی قومیں صرف 200 سال پہلے لکھی گئی اپنی زبانوں کو نہیں سمجھ سکتیں، چونکہ ان کی زبانیں وقت کے ساتھ بہت زیادہ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

عربی متن پر مسلم سائنسدان کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کا اظہار ان کے باعمل مسلم ہونے پر گواہ ہے۔ لکھا ہے:

"الحمد للہ! اللہ کی ذات عظمت اور حمد کے لائق ہے، اور خدا کی رحمتیں اور سلامتی ہو ہمارے آقا محمد ﷺ اور ان کی آل پر۔”

عرب سائنسدانوں، فلاسفروں اور دانشوروں کا علمی ورثہ صرف اسلامی دنیا ہی نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کا سرمایہ ہے۔ یورپی جامعات میں محفوظ عربی مخطوطات اور ان کے تراجم اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ علم کی تاریخ مختلف تہذیبوں کے باہمی اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔ عربی زبان، اسلامی علوم اور مسلم دانشوروں کی خدمات نے عالمی علم و تحقیق کے سفر میں ایک ایسا باب رقم کیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button