بین الاقوامی خبریںسرورق

مکہ مکرمہ:مسجد الحرام میں سیکورٹی اہلکار سے جھگڑنے والا زائر گرفتار، سعودی حکام کا فوری ایکشن

مکہ مکرمہ میں سیکورٹی اہلکار کی زائر سے جھڑپ کی ویڈیو وائرل،

جدہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مکہ مکرمہ کی مسجدالحرام میں سیکورٹی اہلکار اور زائر کے درمیان جھڑپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ 59 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ایک سیکورٹی اہلکار کو حرم کعبہ کے قریب بیٹھی خاتون کو گھسیٹتے اور بعد میں ایک مرد زائر کو دھکیلتے دیکھا گیا، جس نے اہلکار سے مؤدبانہ رویے کی اپیل کی۔

ویڈیو میں زائر کو یہ کہتے سنا گیا:“مجھے ہاتھ مت لگائیں، ادب سے پیش آئیں۔”اس پر اہلکار نے اسے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور مخصوص علاقے میں کھڑا ہونے کی ہدایت دی۔

یہ ویڈیو پیر 3 نومبر کی شام سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں ویوز حاصل کر گئی۔ صارفین نے اس پر ملا جلا ردعمل دیا۔ کچھ نے اہلکار کے رویے کو “نازیبا” قرار دیا، تو کچھ نے حرم کی سیکورٹی کے چیلنجز کو سمجھتے ہوئے اہلکار کی حمایت کی۔

سعودی حکام کا فوری ردعمل

مکہ ریجن اور سعودی پبلک سیکورٹی نے تصدیق کی ہے کہ "خصوصی فورس برائے حج و عمرہ سیکورٹی” نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا:“ویڈیو میں دکھایا گیا شخص حرم شریف کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آیا۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔”

واقعے کے بعد دو مقدس مساجد کے امور کے سربراہ، شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے ایک اہم بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں سیکیورٹی ہدایات پر عمل کرنا عبادت اور اطاعت کی اعلیٰ ترین صورتوں میں سے ہے۔ ان کے مطابق ان ہدایات کا مقصد زائرین کی جان و مال کی حفاظت اور مقدس مقامات کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب زائرین کے لیے بہترین سہولتیں فراہم کرتا ہے، لیکن ہر زائر کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین اور سیکیورٹی قواعد کی پاسداری کرے۔شیخ السدیس نے اپنے بیان کے آخر میں کہا، "مسجد الحرام کی سیکیورٹی ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔”

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر شہریوں نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔ ناقدین نے کہا کہ خواتین کے ساتھ سختی قابلِ قبول نہیں، جبکہ حامیوں نے کہا کہ بعض اوقات رش اور ہجوم کے دوران اہلکاروں کو فوری فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ایک سابق حرم سیکورٹی افسر نے کہا:“یہ اہلکار روزانہ لاکھوں زائرین سے نمٹتے ہیں۔ دباؤ کے ماحول میں بھی زیادہ تر اہلکار اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیتے ہیں۔”

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسجدالحرام کے سیکورٹی عملے کو سخت حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ انہیں روزانہ لاکھوں افراد کے ہجوم کو منظم کرنا، رش سے بچاؤ اور ہنگامی حالات میں فوری فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔
گرمی، لمبے اوقاتِ کار، اور مختلف زبانیں بولنے والے زائرین کے ساتھ بات چیت کی دشواریوں کے باعث بعض اوقات معمولی واقعات بھی سنگین نظر آنے لگتے ہیں۔

سعودی حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ حرم کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ عبادت کا ماحول محفوظ اور پرسکون رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button