حیدرآباد کی بیٹی غزالہ ہاشمی نے لکھ دی تاریخ – ورجینیا کی پہلی مسلم لیفٹیننٹ گورنر منتخب
غزالہ ہاشمی ورجینیا کی پہلی مسلم اور جنوبی ایشیائی لیفٹیننٹ گورنر بن گئیں
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حیدرآباد میں پیدا ہونے والی امریکی سیاستدان غزالہ ہاشمی نے ورجینیا ریاست میں لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے، اس طرح وہ ریاست کی پہلی مسلم اور جنوبی ایشیائی نژاد امریکی خاتون بن گئیں جنہوں نے اس اعلیٰ سیاسی عہدے پر کامیابی حاصل کی۔
61 سالہ ڈیموکریٹ امیدوار غزالہ ہاشمی نے 14 لاکھ 65 ہزار 634 ووٹ (54.2 فیصد) حاصل کیے، جبکہ ان کے ریپبلکن حریف جان ریڈ کو صرف 12 لاکھ 32 ہزار 242 ووٹ ملے۔ انتخابی عمل کے 79 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی ان کی واضح برتری ظاہر ہوگئی تھی۔
غزالہ ہاشمی کی کامیابی کو امریکی میڈیا نے ایک تاریخی سیاسی موڑ قرار دیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ریاست ورجینیا کی بلکہ پورے امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بن گئی ہیں۔
ہاشمی اس سے قبل بھی ورجینیا اسٹیٹ سینیٹ میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جہاں وہ پہلی مسلم اور جنوبی ایشیائی امریکی سینیٹر تھیں۔ ان کی قانون سازی کی ترجیحات میں تعلیم، ووٹنگ کے حقوق، جمہوریت کے تحفظ، تولیدی آزادی، ماحولیاتی تحفظ اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔
انڈین امریکن امپیکٹ فنڈ نے غزالہ ہاشمی کی تاریخی جیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف کمیونٹی بلکہ امریکی جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ انہوں نے ہاشمی کی مہم میں 1.75 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی تاکہ ووٹروں کو متحرک کیا جا سکے۔
فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر چنتن پٹیل نے کہا:”ایک مہاجر، استاد اور سماجی انصاف کی علمبردار کے طور پر غزالہ ہاشمی نے اپنی زندگی ورجینیا کے عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔”
غزالہ ہاشمی نے 2019 میں پہلی بار انتخاب جیت کر سیاسی منظر پر سب کو حیران کر دیا تھا، جب انہوں نے ریپبلکن امیدوار کو شکست دے کر ڈیموکریٹس کو ریاستی سینیٹ میں اکثریت دلوائی تھی۔
2024 میں انہیں سینیٹ ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ کمیٹی کی چیئر کے طور پر بھی منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے تعلیم، ماحولیات، اور صحت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
غزالہ ہاشمی 1964 میں حیدرآباد (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین تنویراور ضیاء ہاشمی تھے۔ ان کا بچپن ملک پیٹ میں نانا کے گھر گزرا۔ وہ صرف چار سال کی تھیں جب اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئیں، جہاں ان کے والد پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
انہوں نے جارجیا سدرن یونیورسٹی سے بی اے (آنرز) اور ایموری یونیورسٹی اٹلانٹا سے امریکن لٹریچر میں پی ایچ ڈی حاصل کی۔ شادی کے بعد وہ 1991 میں شوہر اظہر ہاشمی کے ساتھ رچمنڈ، ورجینیا منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے تقریباً 30 سال بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔انہوں نے رینالڈز کمیونٹی کالج میں تدریس کے ساتھ Centre for Excellence in Teaching and Learning (CETL) کی بانی ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔
غزالہ ہاشمی کی یہ کامیابی نہ صرف امریکی مسلم خواتین کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے بلکہ جنوبی ایشیائی برادری کے لیے بھی سیاسی شمولیت کا ایک نیا باب رقم کرتی ہے۔



