قومی خبریں

آسام کابینہ نے تعدد ازدواج پر پابندی کے بل کو منظوری دی، خلاف ورزی پر سات سال قید کی سزا

قبائلی علاقے اس بل کے دائرہ کار سے مستثنیٰ رہیں گے۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اعلان کیا کہ ریاستی کابینہ نے تعدد ازدواج (Polygamy) پر پابندی عائد کرنے والے بل کو منظوری دے دی ہے۔ نئے مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادیاں کرتا ہے تو اسے سات سال تک کی سخت قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ قانون مذہب سے قطع نظر سب پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سرما نے کہا کہ حکومت کا مقصد خواتین کے وقار کا تحفظ اور صنفی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ البتہ، چھٹے شیڈول میں شامل قبائلی علاقے اس بل کے دائرہ کار سے مستثنیٰ رہیں گے۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہمانتا بسوا سرما نے بتایا کہ حکومت ان خواتین کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کرے گی جو تعدد ازدواج کی شکار بنی ہیں، تاکہ انہیں بعد کی زندگی میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر اعلیٰ سرما نے مزید بتایا کہ "آسام پرہیبیشن آف پولیگامی بل 2025” کو 25 نومبر کو اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، یہ ایک ناقابل ضمانت جرم ہوگا اور مجرم کو سات سال تک جیل کی سزا دی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خواتین کو مالی امداد فراہم کرے گی تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور ہو گیا تو آسام، اتراکھنڈ کے بعد ایک اور ایسی ریاست بن جائے گی جہاں متعدد شادیوں پر قانونی طور پر پابندی ہوگی۔

خواتین کی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون خواتین کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ آسام کے مقامی لوگوں کو اسلحہ لائسنس فروری 2026 تک ملنا شروع ہوجائیں گے۔ حساس اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے آسامی نسل کے افراد کو اسلحہ لائسنس کی پہلی کھیپ جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف منتخب اور قابلِ اعتماد شہریوں کو لائسنس جاری کرے گی، ہر کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button