نٹھاری قتل کیس میں نیا موڑ، سپریم کورٹ نے سریندر کولی کو 18 سال بعد بری کر دیا
نٹھاری قتل کیس: سپریم کورٹ نے 18 سال بعد سریندر کولی کو بری کیا، شواہد پر سوالات اٹھے
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نٹھاری قتل معاملے میں منگل کے روز ایک تاریخی موڑ آیا، جب سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم سریندر کولی کو بری کرنے کا حکم سنایا۔ عدالت عظمیٰ نے اس کی اصلاحی عرضی منظور کرتے ہوئے سزا اور جرمانہ دونوں منسوخ کر دیے، جس کے ساتھ ہی اس کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس بی آر گوئی، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وکرم ناتھ کی تین رکنی بنچ نے سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ:’’اصلاحی عرضی منظور کی جاتی ہے، سزا اور جرمانہ منسوخ کیے جاتے ہیں، اور اگر کسی دوسرے مقدمے میں کولی کی ضرورت نہیں ہے تو اسے فوراً رہا کیا جائے۔‘‘
یہ دل دہلا دینے والا معاملہ 29 دسمبر 2006 کو سامنے آیا تھا، جب نوئیڈا کے نٹھاری گاؤں میں صنعت کار مونندر سنگھ پنڈھیر کے گھر کے پیچھے نالے سے 8 بچوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے۔تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پندھیر کا گھریلو ملازم سریندر کولی مرکزی ملزم ہے۔ بعد میں سی بی آئی نے کیس کی باگ ڈور سنبھالی اور متعدد انسانی اعضا و ڈھانچے برآمد کیے گئے، جنہوں نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کولی کو ایک 15 سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے الزام میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔2011 میں سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت برقرار رکھی، اور 2014 میں اس کی نظرثانی عرضی بھی مسترد کر دی گئی۔البتہ 2015 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے تاخیر کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔
اکتوبر 2023 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نٹھاری کیس سے جڑے متعدد مقدمات میں کولی اور اس کے آجر مونندر سنگھ پندھیر دونوں کو بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ’’نچلی عدالت کے فیصلے کمزور ثبوتوں پر مبنی تھے، ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔‘‘
بعد ازاں، سی بی آئی اور مقتولین کے اہل خانہ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، مگر عدالت عظمیٰ نے 30 جولائی 2025 کو تمام 14 اپیلیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ’’دستیاب شواہد اتنے مضبوط نہیں کہ ان کی بنیاد پر سزائے موت یا قید کو برقرار رکھا جائے۔‘‘
7 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ نے کولی کی اصلاحی عرضی پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے نشاندہی کی کہ’’کولی کی سزا صرف ایک بیان اور کچن کے چاقو کی برآمدگی پر مبنی تھی، جس سے شواہد کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔‘‘
تازہ فیصلے میں عدالت نے کولی کی 18 سالہ قید کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اور کیس میں ضرورت نہیں تو اسے فوراً رہا کیا جائے۔اس فیصلے کے ساتھ نٹھاری کیس کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے، جو برسوں سے ملک کے عدالتی نظام اور انسانی ہمدردی کے مباحث کا حصہ بنا ہوا تھا۔



