سعودی عرب میں 45 حیدرآبادی عمرہ زائرین سڑک حادثہ میں جاں بحق — المناک سانحہ کی تفصیلات
24 سالہ محمد عبدالشعیب کرشماتی طور پر محفوظ
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی عرب میں پیر کی صبح ایک خوفناک بس حادثہ پیش آیا جس میں حیدرآباد کے 45 عمرہ زائرین جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بس مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوئی تھی، تاہم مدینہ منورہ سے تقریباً 25 کلو میٹر دور ڈرائیور نے ایک ڈیزل ٹینکر کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں بس میں آگ بھڑک اُٹھی اور اندر موجود تقریباً تمام زائرین شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ حادثہ سعودی وقت کے مطابق رات 1:30 بجے جبکہ بھارتی وقت کے مطابق صبح 4 بجے پیش آیا۔ بس میں موجود واحد زندہ بچ جانے والے عمرہ زائر محمد عبدالشعیب شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔
اس دلخراش سانحہ میں شیخ نصیر الدین کے ایک ہی خاندان کے 18 افراد بھی ہلاک ہوئے، جس نے اس حادثے کو مزید المناک بنا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام زائرین 9 نومبر کو حیدرآباد سے المکہ ٹور اینڈ ٹراویل، باب الحرمین حفصہ ٹور اینڈ ٹراویل اور محمود بھائی نامی ایک ٹراویل ایجنٹ کے ذریعے عمرہ کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ عمرہ کے مناسک کی ادائیگی کے بعد وہ رات کے دیر گئے مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوئے اور مفریحت نامی مقام کے قریب، جو جنگ بندر علاقے کے نزدیک ہے، حادثے کا شکار ہوگئے۔ حادثے کے چند لمحوں بعد گزرنے والے دیگر زائرین نے شعلوں میں لپٹی بس کی ویڈیوز بھی بنائیں اور فوری طور پر سعودی پولیس کو اطلاع دی۔ سعودی پولیس، فائرسروسز اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ٹیمیں فوری جائے حادثہ پر پہنچیں اور شعلوں پر قابو پاتے ہوئے زخمیوں اور نعشوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔
کل 54 زائرین حیدرآباد سے مکہ مکرمہ کیلئے روانہ ہوئے تھے جن میں سے 46 افراد بس کے ذریعے مدینہ منورہ جا رہے تھے، جبکہ چار نے کار سے سفر کرنے کا فیصلہ کیا اور چار زائرین مکہ میں ہی رک گئے تھے۔ حادثہ کی خبر جیسے ہی حیدرآباد پہنچی، شہر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور مرنے والوں کے اہلِ خانہ شدید صدمے کی حالت میں ملے پلی میں واقع المکہ ٹور اینڈ ٹراویل کے دفتر پہنچ گئے جہاں ماحول کشیدہ ہوگیا۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں نفری تعینات کر دی۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں رحمت بی، مریم فاطمہ، سارہ بیگم، شہناز بیگم، شوکت بیگم، محمد مولانا، سارہ محمود العمودی، شاہجہاں بیگم، شیخ صلاح الدین، محمد مستان، ذکیہ بیگم، محمد علی، رحیم النساء، غوثیہ بیگم، اختر بیگم، شیخ نصیر الدین، محمد عبدالقدیر، عمیرہ نازنین، صبیحہ سلطانہ، عبدالغنی احمد صاحب، رضوانہ بیگم، عرفان احمد، پروین بیگم، محمد سہیل، شیخ زین الدین، فرحانہ سلطانہ، ردا تزین، فرحین بیگم، تسمیہ تحرین، محمد منظور، محمد شاہ زین احمد، اذعان احمد، حمدان احمد، سید حزیفہ جعفر، ذہین بیگم، شبانہ بیگم، انیس فاطمہ، امینہ بیگم، سلیم خان، محمد شعیب الرحمن، رئیس بیگم، عمیزہ فاطمہ، ثناء سلطان، عزیر الدین شیخ اور مہریش فاطمہ شامل ہیں۔ زخمی محمد عبدالشعیب واحد زندہ بچ جانے والے زائر ہیں۔
جوائنٹ کمشنر پولیس تفسیر اقبال کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 43 افراد کا تعلق حیدرآباد، 2 کا سائبرآباد اور ایک کا کرناٹک کے ہبلی علاقے سے ہے۔ تلنگانہ پولیس نے مہلوکین کے گھروں کی نشاندہی، خاندانوں کو اطلاع اور دیگر تفصیلات اکٹھی کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ مزید یہ کہ نئی دہلی میں تلنگانہ بھون کے کنٹرول روم اور جدہ میں بھارتی قونصل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار ہے تاکہ ہلاک شدگان کے متعلق تمام ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔
شہداء کے پسماندگان کیلئے فی کس 5 لاکھ ایکس گریشیا، تلنگانہ کابینہ کا فیصلہ
تلنگانہ حکومت نے مدینہ منورہ کے قریب پیش آئے بس سانحہ کے شہداء کے پسماندگان کو فی کس پانچ لاکھ روپے ایکس گریشیا فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر شہید کے دو قریبی افراد خاندان کو تدفین کے انتظامات کیلئے سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ روانہ کیا جائے گا۔ وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین کی قیادت میں تین رکنی سرکاری وفد بھی مدینہ منورہ روانہ ہوگا، جس میں مجلس کے رکن اسمبلی ماجد حسین اور سکریٹری اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ شامل ہیں۔
چیف منسٹر ریونت ریڈی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں سانحہ میں شہید ہونے والے حیدرآباد کے معتمرین کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں شہداء کے پسماندگان کیلئے فی کس پانچ لاکھ روپے ایکس گریشیا منظور کیا گیا اور شہداء کی شناخت، تدفین اور تمام ضروری انتظامات کی نگرانی کیلئے تین رکنی وفد کو مدینہ منورہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی طے کیا کہ شہداء کی شناخت میں سہولت کیلئے ہر شہید کے دو رشتہ داروں کو بھی سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ لے جایا جائے گا، جبکہ تمام شہداء کی تدفین مدینہ منورہ میں ہی کی جائے گی۔
وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے کابینہ کو سانحہ کی مکمل تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ مشیرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 18 افراد اس المناک حادثے میں شامل تھے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ ہیلپ لائن سینٹر اور متاثرہ خاندانوں کی رہنمائی سے متعلق انتظامات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر کہا کہ ایکس گریشیا کے علاوہ بھی متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی اور حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
کابینہ کے تمام ارکان نے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے تعزیت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ ہندوستانی سفارتخانے اور سعودی حکام سے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے شناخت اور تدفین کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔ وزیر اقلیتی بہبود نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے دوران انہیں حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلایا گیا ہے۔



