دہلی این سی آر میں سنگین آلودگی، کھلی فضا میں کھیل مقابلے ملتوی کریں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کی سخت ہدایات: دہلی این سی آر میں کھلے میدانوں کے کھیل مقابلے مؤخر کیے جائیں
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے دہلی این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) کو ہدایت دی ہے کہ وہ نومبر اور دسمبر میں طے شدہ تمام کھلی فضا کے کھیل مقابلوں کو مؤخر کرنے کا حکم جاری کرے، کیونکہ موجودہ حالات بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بینچ نے کہا کہ دہلی کی خراب ہوتی ہوا ایسے اقدامات کی متقاضی ہے جو بروقت اور مؤثر ہوں، اور عدالت اس معاملے کی نگرانی ہر ماہ جاری رکھے گی۔ سماعت کے دوران امیکس کیوریہ اپراجتا سنگھ نے بچوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بڑے ایئر پیوریفائر والے کمروں میں بیٹھے ہیں، بچے کھلی فضا میں کھیلوں کی تیاری کر رہے ہیں جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ عمل ’’بچوں کو گیس چیمبر میں ڈالنے‘‘ کے مترادف ہے۔ عدالت نے ان مشاہدات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے CAQM سے درخواست کی کہ وہ کھیل مقابلوں کو محفوظ مہینوں تک ملتوی کرنے کے حوالے سے فوری ہدایت جاری کرے۔
سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ وزارت ماحولیات، جنگلات و تبدیلیٔ آب و ہوا نے منگل کو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے جس میں آلودگی سے نمٹنے کیلئے طویل اور مختصر مدتی اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔ تاہم امیکس کیوریہ نے نشاندہی کی کہ 2018 سے پالیسی موجود ہے اور 2015 سے گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان بھی نافذ ہے، لیکن عملی سطح پر ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کے پاس عملے کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال بہتر نہیں ہو پا رہی۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اقدامات صرف آلودگی کے شدید دنوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ سال بھر مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے CAQM اور CPCB کو اجازت دی کہ وہ فضائی معیار کی حقیقی صورتحال کی بنیاد پر GRAP کے تحت سخت اقدامات فوری نافذ کریں۔
بینچ نے تعمیراتی سرگرمیوں پر GRAP پابندیوں کے دوران مزدوروں کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مزدور انہی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے دہلی، اترپردیش، ہریانہ اور راجستھان حکومتیں اپنی آئندہ سماعت میں عدالت کو بتائیں کہ ان مزدوروں کو سبسِسٹنس الاؤنس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی۔ عدالت نے اس بات کو بھی دہرایا کہ سال بھر GRAP نافذ کرنے کا مطالبہ درست نہیں، کیونکہ یہ نظام ایمرجنسی صورتحال کیلئے بنایا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عارضی اقدامات کے بجائے مستقل اور دیرپا حل ضروری ہیں۔
فضائی آلودگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یعنی فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے پر عدالت نے پنجاب اور ہریانہ کو سختی سے CAQM کی سفارشات پر عمل کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ان سفارشات پر سختی سے عمل ہو تو سٹبل برننگ پر خاطر خواہ حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں ریاستوں کو مشترکہ میٹنگ منعقد کرنے اور مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اگرچہ پنجاب میں سٹبل برننگ کے واقعات میں کمی کی رپورٹ آئی ہے، لیکن عدالت نے نشاندہی کی کہ دہلی کی ہوا کی کوالٹی میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
GRAP کے مطابق ہوا کے معیار کے لحاظ سے اقدامات چار درجوں میں تقسیم ہیں: GRAP-I (AQI 201–300) ناقص، GRAP-II (AQI 301–400) بہت ناقص، GRAP-III (AQI 401–450) شدید، اور GRAP-IV (AQI 451 سے اوپر) انتہائی شدید۔ CPCB کے مطابق فضائی معیار کی اقسام میں اچھا (0–50)، اطمینان بخش (51–100)، معتدل (101–200)، ناقص (201–300)، بہت ناقص (301–400) اور شدید (401–500) شامل ہیں۔ عدالت نے 12 نومبر کو بھی حکومتوں سے عمل درآمد کی تفصیلات طلب کی تھیں اور اس معاملے پر آئندہ سماعت میں مزید رپورٹیں طلب کی جائیں گی۔



