
شادی شدہ عورت محض شادی کے وعدے پر جسمانی تعلقات پر آمادہ نہیں ہو سکتی-
پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ-شادی شدہ خاتون کے تعلقات کو ’وعدۂ نکاح‘ کا فریب قرار نہیں دیا جا سکتا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے شادی کا جھانسہ دے کر عصمت دری کے الزام والے ایک معاملے میں نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ایک قانونی طور پر شادی شدہ عورت محض شادی کے وعدے پر کسی دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے راضی ہو سکتی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ معاملے میں شامل خاتون اپنے شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں ہوتے ہوئے طویل عرصے تک درخواست گزار کے ساتھ بھی جسمانی تعلقات میں رہی۔
’لائیو لا‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اس کیس میں درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ خاتون کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں کہ اس نے محض درخواست گزار کے وعدوں کے زیر اثر تعلق قائم کیا۔ جسٹس شالنی سنگھ ناگپال نے کہا کہ بالغ، باشعور اور شادی شدہ عورت کا ایسی صورتحال میں محض وعدے پر بھروسہ کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایک شادی شدہ عورت طویل عرصے تک کسی مرد کے ساتھ رضامندی سے تعلقات قائم رکھتی ہے تو یہ شادی کے وعدے کے غلط استعمال کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اپنے فیصلے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے آئی پی سی کی دفعہ 90 کا اطلاق بھی اس معاملے میں نہیں کیا جا سکتا۔ استغاثہ نے خود اپنے بیانات میں اعتراف کیا کہ خاتون نے کئی مواقع پر رضامندی سے تعلقات قائم کیے جبکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بھی ازدواجی زندگی گزار رہی تھی۔
عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اگر ایف آئی آر میں لگائے گئے تمام الزامات اور سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت دیے گئے بیانات کو درست بھی مان لیا جائے، تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایک شادی شدہ، بالغ اور پیشے کے اعتبار سے وکیل خاتون کو کوئی شخص محض شادی کے وعدے پر جسمانی تعلقات کے لیے آمادہ کر لے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ معاملے کا پس منظر ایسا نظر آتا ہے کہ خاتون کافی عرصے سے درخواست گزار کے ساتھ تعلق میں تھی، لیکن جب درخواست گزار کی بہن کی منگنی ہوگئی تو اسے جذباتی صدمہ پہنچا اور اسی ردعمل میں مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں فریق پیشے سے وکیل ہیں، اس لیے اس امکان کا کوئی جواز نہیں کہ درخواست گزار خاتون کو دھوکہ دے کر ایسے تعلقات پر آمادہ کر سکتا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے ایف آئی آر میں تاریخوں، مقامات اور مخصوص تفصیلات کی کمی پر بھی سوال اٹھایا۔
تعزیرات ہند کی دفعہ 506 کے تحت درج دھمکی کے الزام کے بارے میں عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے مبینہ الفاظ تک درج نہیں کیے گئے، لہٰذا یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ واقعی دھمکی دینے کی نیت تھی۔ان تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ایف آئی آر منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ قانونی طور پر قائم نہیں رہتا۔



