معذور بچے کی دردناک موت، تدفین کے لیے پیسے نہ ہونے پر باپ نے گھنٹوں نعش گود میں اٹھائے رکھی
محبوب نگر میں انسانیت شرمسار،فاؤنڈیشن کی مدد کے بعد آخری رسومات انجام دی گئی
محبوب نگر کے غریب باپ کی بے بسی، معذور بیٹے کی نعش پانچ گھنٹے گود میں اٹھائے مدد کا انتظار
محبوب نگر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) خدا ہر انسان کو ایک جیسی زندگی نہیں عطا کرتا۔ کسی کو صحت، آسائش اور دولت ملتی ہے، تو کسی کے حصے میں آزمائشیں، محرومیاں اور مسلسل جدوجہد لکھ دی جاتی ہیں۔ کچھ بچے تندرست پیدا ہوتے ہیں، جب کہ کچھ معصوم پیدائش ہی سے جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اکثر ایسے بچے غربت کی آگ میں جلتے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں، جہاں نہ ان کے علاج کی گنجائش ہوتی ہے، نہ مناسب غذا کی۔ ان کا وجود ہی بے بسی کی ایک داستان بن جاتا ہے، جسے دیکھ کر آنکھیں نم ہو جانا فطری ہے۔
محبوب نگر ضلع کے پریم نگر میں پیش آنے والا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ خوراک کی کمی اور مسلسل بیماری نے ایک آٹھ سالہ معذور بچے ہریش کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔ اس کا غریب باپ بلراج اسے دفنانے کے لیے کفن کا بھی محتاج تھا۔ نہ پیسے، نہ کوئی مدد، نہ کوئی سہارا — سو وہ اپنے لختِ جگر کی بے جان نعش گود میں اٹھائے شمسنان گھاٹ جا پہنچا اور پانچ طویل گھنٹے وہاں بیٹھ کر مدد کی آس لگائے رہا۔
مقامی لوگوں کے مطابق بلراج کبھی مقامی کپاس مل میں مزدوری کرکے گھر چلاتا تھا، مگر ایک سال قبل مل بند ہوئی تو آمدنی کے تمام راستے بند ہوگئے۔ مالی دباؤ نے گھر کی فضا کو بھی متاثر کیا، جھگڑے بڑھے اور چھ ماہ پہلے اس کی بیوی چھوٹے بیٹے کو لے کر اسے تنہا چھوڑ گئی۔ بڑا بیٹا ہریش پیدائشی طور پر اپاہج تھا اور ذہنی معذوری کا بھی شکار تھا، مگر باپ کی محبت اور شفقت کم نہ ہوئی۔ بلراج ایک ہوٹل میں معمولی مزدوری کرتے ہوئے اس کی دیکھ ریکھ کرتا رہا۔
مگر غربت اور بھوک بڑی ظالم ہوتی ہے۔ چار دن سے دونوں باپ بیٹا بھوکے تھے، صرف پانی پر گزارا کر رہے تھے۔ کمزور جسم آخر کب تک لڑتا؟ ہریش نے اسی بے بسی میں دم توڑ دیا۔
بلراج اپنے مردہ بیٹے کو گود میں اٹھائے دوپہر 2 بجے قبرستان پہنچا اور شام 7 بجے تک اس کی نعش سینے سے لپٹائے روتا رہا۔ ایک باپ کا یوں بیٹھ کر فریاد کرنا، اور بے بسی سے اپنے ہی بیٹے کی لاش کو تھامے رہنا… وہاں موجود ہر شخص کا دل لرزا دینے کے لیے کافی تھا۔
بالآخر مقامی لوگوں نے جڑچرلہ کی وی آر فاؤنڈیشن کو اطلاع دی۔ شام کو تنظیم کے رضاکار موقع پر پہنچے، پوک لائن مشین سے قبر کھدوائی اور نہایت احترام کے ساتھ ہریش کی تدفین کرائی۔
بلراج نے آہوں بھری آواز میں بتایا کہ وہ خود بھی بیمار ہے، اور مسلسل بھوک نے اسے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس باپ کی حالت دیکھ کر وہاں موجود ہر آنکھ نم ہوگئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے بے سہارا، لاچار انسانوں کے لیے صرف خدا ہی سہارا ہوتا ہے۔ مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلراج جیسے بے بس خاندانوں کی فوری اور مستقل مدد کی جائے تاکہ ایسے المیے دوبارہ جنم نہ لیں۔



