اروناچل پردیش کی رہائشی بھارتی خاتون کو شنگھائی ایئرپورٹ پر 18 گھنٹے روک لیا گیا
چین نے اروناچل کو اپنا حصہ بتایا، بھارتی خاتون کا پاسپورٹ مسترد — شنگھائی میں 18 گھنٹے حراست
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی بھارتی خاتون پم وانگ تھونگڈوک نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شنگھائی پڈونگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 18 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور چینی حکام نے ان کے بھارتی پاسپورٹ کو صرف اس بنیاد پر “غیر معتبر” قرار دیا کہ ان کی پیدائش اروناچل پردیش میں ہوئی ہے — وہ خطہ جس پر چین مسلسل دعویٰ کرتا ہے۔
تھونگڈوک، جو اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں، 21 نومبر 2025 کو لندن سے جاپان جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق وہ امیگریشن کلیئر کر چکی تھیں اور سیکورٹی چیک کے دوران ایک اہلکار نے انہیں قومی شناخت پکار کر واپس امیگریشن کاؤنٹر پر بلایا، جہاں انہیں مبینہ طور پر بتایا گیا:“اروناچل چین کا حصہ ہے، آپ کا پاسپورٹ غیر معتبر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کنیکٹنگ فلائٹ میں سوار ہونے سے روک دیا گیا اور چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کا نیا ٹکٹ خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ واقعے کے بعد تھونگڈوک نے ایکس پر اپنی پوسٹس میں اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو، مرکزی وزیر کیرن رجیجو اور مختلف میڈیا اداروں کو ٹیگ کرتے ہوئے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
بعد ازاں بھارتی قونصل خانے کی مداخلت کے بعد انہیں اسی رات شنگھائی سے روانگی کی اجازت دے دی گئی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور چین کے درمیان اروناچل پردیش کو لے کر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ بھارت مسلسل واضح موقف رکھتا ہے کہ اروناچل پردیش اُس کا اٹوٹ انگ ہے۔



