دہلی فسادات کیس: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کردی
نئی تاریخ 2 دسمبر مقرر
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے 2020 دہلی فسادات کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور یو اے پی اے کے تحت نامزد دیگر پانچ ملزمان کی درخواستِ ضمانت کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے نئی تاریخ 2 دسمبر مقرر کردی ہے۔ جمعہ 21 نومبر 2025 کو ہونے والی کارروائی میں دہلی پولیس نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست گزار صرف آئین کا حوالہ دے کر عدالت سے ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ان کے خلاف سنگین شواہد موجود ہیں۔
پچھلی سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے دہلی پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ—جسٹس اروِند کمار اور جسٹس این وی انجاریا—کو بتایا تھا کہ 2020 کے فسادات کوئی اچانک بھڑک اٹھنے والا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت رونما ہوئے تھے۔، بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت رونما ہوئے۔ انہوں نے محفوظ گواہوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ سازش کرنے والوں نے تشدد کی منصوبہ بندی کی، چکّہ جام منظم کیے اور سڑکوں کی ناکہ بندی کے ذریعے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ “آسام کو بھارت سے کاٹنے” جیسے منصوبوں کا بھی ذکر سامنے آیا۔
عدالت نے 21 نومبر کی سماعت کے بعد معاملے کو 24 نومبر تک مؤخر کیا تھا، تاہم پیر کے روز ایک بار پھر وقت کی کمی کے باعث سماعت نہیں ہوسکی اور اب نئی تاریخ 2 دسمبر مقرر کردی گئی ہے۔
ملزمان میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمان اور دیگر شامل ہیں، جن پر یو اے پی اے کی سخت دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ ان تمام درخواستوں کو مسترد کر چکا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ اب تمام کی نظریں 2 دسمبر کی سماعت پر مرکوز ہیں، جب عدالت ضمانت کی درخواستوں پر مزید کارروائی کرے گی۔



