اردن میں جدید روبوٹ کی شاندار انٹری، رمثا آپریشن میں ’’پیرابوٹ‘‘ نے اہم کردار ادا کیا
اردن میں خطرناک ملزمان کے خلاف کارروائی میں جدید ’’پیرابوٹ‘‘ روبوٹ
عمان/اردن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اردن میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے عوام اور میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ رمثا کے علاقے میں ہونے والی ایک خصوصی کارروائی کے دوران اردنی سیکیورٹی فورسز نے پہلی مرتبہ ایک جدید روبوٹ "پیرابوٹ” کو استعمال کیا۔ یہ روبوٹ خاص طور پر اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ خطرناک ملزمان کے خلاف چھاپوں اور جھڑپوں کے دوران اہلکاروں کو ممکنہ جانی خطروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پیرابوٹ دراصل دفاعی ٹیکنالوجی کے عالمی ادارے Paramount کی تخلیق ہے، جسے پہلی بار سوفکس (SOFEX) دفاعی نمائش میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ یہ روبوٹ تقریباً 10 میٹر لمبا اور ایک ٹن وزنی ہے اور اسے مضبوط بکتر بند مواد سے تیار کیا گیا ہے تاکہ یہ گولیوں اور دھماکوں سے محفوظ رہ سکے۔ اس میں نصب تھرمل کیمرے، بارودی مواد کی نشاندہی کرنے والے سینسر، اور کنٹرول روم تک لائیو ویڈیو فیڈ کا نظام اسے خطرناک کارروائیوں میں نہایت کارآمد بناتا ہے۔ یہ روبوٹ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور کچھ مراحل میں نیم خودکار طریقے سے بھی کام کرتا ہے۔
بدھ کی صبح اردن کے محکمہ امنِ عامہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ "لواء الرمثا” میں ایک خصوصی کارروائی کے دوران "فکرِ تکفیری” سے وابستہ دو مطلوب بھائیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں افراد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے ہی گھر کے اندر اپنی والدہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ ایسے حالات میں پیرابوٹ کا استعمال انتہائی مؤثر ثابت ہوا، جس نے نہ صرف اہلکاروں کو خطرات سے بچایا بلکہ اندر موجود افراد کی موجودگی، نقل و حرکت اور ممکنہ خطرات کی درست معلومات بھی فراہم کیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اگر اس روبوٹ کا استعمال نہ کیا جاتا تو اہلکاروں کو براہِ راست خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ پیرابوٹ نے کارروائی کے دوران وہ تمام کام انجام دیے جو عام حالات میں کسی اہلکار کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر کرنے پڑتے۔ اسی وجہ سے اس کارروائی کو اردن میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
View this post on Instagram



