آندھرا پردیش میں تین نئے اضلاع کی منظوری، کل اضلاع کی تعداد 29 ہوگئی
آندھرا پردیش میں تین نئے اضلاع کی تشکیل: انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی
وجئے واڑہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آندھرا پردیش حکومت نے ریاست میں انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تین نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مجموعی اضلاع کی تعداد بڑھ کر 29 ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں گروپ آف منسٹرز کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو منظوری دی گئی، جن میں مرکاپورم، مدن پلے اور پولاورم اضلاع کے قیام کی سفارش شامل تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اضلاع کی ازسرنو تنظیم عوامی ضرورتوں کو مؤثر انداز میں پورا کرنے اور انتظامی سہولت بڑھانے کے لیے ضروری تھی۔
حکومت نے نئے اضلاع کے ساتھ پانچ نئے ریوینو ڈویژن تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان میں انکاپلّی ضلع میں نکاپلّی، پرکاشم میں اڈانکی، مدن پلے میں پیلرو، نندیال میں بنگن پلے اور ستیا سائی میں مدکاسرہ شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کرنول ضلع کے اڈونی منڈل کو تقسیم کرکے ایک نیا منڈل "پڈّہ ہری ونم” قائم کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
مرکاپورم ضلع یرراگونڈہ پلی، مرکاپورم، کنیگیری اور گڈڈالورو ریوینو ڈویژن پر مشتمل ہوگا۔ مدن پلے ضلع میں مدن پلے، پنگنور اور پیلرو ڈویژن شامل کیے جائیں گے۔ پولاورم ضلع کی تشکیل گوداوری کے اطراف کے سیلابی علاقوں اور پولاورم پروجیکٹ سے متاثر ہونے والے مستقبل کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔ اس ضلع میں رامپچوڈورم اور چنٹورو ریوینو ڈویژن شامل ہوں گے، جبکہ رامپچوڈورم کو ہیڈکوارٹر بنایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نائیڈو نے اس سے قبل کہا تھا کہ اضلاع کی نئی تشکیل اس انداز میں ہونی چاہیے کہ عوام کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی ہو، فاصلوں میں کمی آئے اور لوگوں کو دفاتر تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی ضلع بندی سائنٹفک انداز میں نہیں کی گئی تھی جس کے باعث کئی علاقوں میں انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
اس مقصد کے لیے ریاستی حکومت نے 22 جولائی کو سات رکنی منسٹریل سب کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے اضلاع، ریوینو ڈویژن اور منڈلوں کی جغرافیائی، سماجی اور انتخابی حدود کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ کمیٹی کو یہ ہدایت بھی دی گئی تھی کہ عوامی احساسات، روزگار، ترقیاتی اسکیموں اور مقامی نمائندگی کو بھی اپنی سفارشات کا حصہ بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولاورم پروجیکٹ کے بعد ممکنہ آبادیاتی تبدیلیوں اور انتخابی ڈلیمیٹیشن کو بھی غور میں لایا گیا۔
پس منظر کے طور پر، 2014 میں ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش میں اضلاع کی تعداد 13 رہ گئی تھی، تاہم 2022 میں وائی ایس آر سی پی حکومت نے ان کی تعداد بڑھا کر 26 کردی تھی۔ موجودہ ٹی ڈی پی اتحاد نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اضلاع کی سائنٹفک بنیادوں پر ازسرنو تنظیم کی جائے گی تاکہ انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے اور عوامی مفادات کو مقدم رکھا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی مشاورت کے بعد نئے اضلاع اور ریوینو ڈویژن جلد باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیے جائیں گے۔



