بین ریاستی خبریںسرورق

بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ: مذہبی عبادات میں لاؤڈ اسپیکر لازمی نہیں، مسجد کی درخواست مسترد

نماز میں لاؤڈ اسپیکر لازمی ثابت نہیں، عدالت نے مسجد کی درخواست خارج کر دی

ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ نے مسجد غوثیہ (ضلع گونڈیا) کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی مذہب میں عبادات کی ادائیگی کے لیے آواز بڑھانے والے آلات کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، اس لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق کے تحت نہیں آتا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ لاؤڈ اسپیکر مذہبی فریضے یا عبادات کے لیے ناگزیر ہے۔ بینچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب ایسی عبادت کی تلقین نہیں کرتا جو دوسروں کے سکون میں خلل ڈالے یا ماحول میں صوتی آلودگی کا باعث بنے۔ عدالت کے مطابق شہریوں کی صحت، سکون اور ماحول کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

فیصلے میں صوتی آلودگی کے مضر اثرات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ عدالت نے کہا کہ بلند آوازیں جسم میں کورٹیسول جیسے نقصان دہ کیمیکلز کے اخراج کا سبب بنتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، ذہنی تناؤ، تھکاوٹ، سر درد اور رویّوں میں جارحیت جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ 120 ڈیسی بل سے زائد آواز سماعت کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بینچ نے ناگپور کے سیول لائنز میں واقع تقریب گاہوں اور مختلف مذہبی مقامات پر صوتی آلودگی کے قوانین کی بار بار خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا۔ عدالت نے کہا کہ تقریبات کا انعقاد کرنے والے مقامات کو قانون کا احترام یقینی بنانا چاہیے، اور حکومتِ مہاراشٹر کو اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے کے اختتام پر کہا کہ صوتی آلودگی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور ریاست کو چاہیے کہ فوری طور پر اس حوالے سے مؤثر اقدامات کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button