مرشد آباد میں بابری مسجد کا سنگِ بنیاد — ہمایوں کبیر کا اعلان، ‘کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ہٹا سکتا’
"اللہ جس کے ساتھ ہو، اسے کوئی نہیں روک سکتا" — کبیر
مرشد آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) معطل شدہ ترنمول کانگریس (TMC) کے ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے ہفتے کے روز مرشد آباد میں بابری مسجد کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کی 37 فیصد مسلم آبادی کسی بھی قیمت پر یہ مسجد تعمیر کرے گی اور "کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ہٹا سکتا۔”
کبیر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو عبادت گاہ بنانے کا حق دیتا ہے، اور وہ کوئی غیر آئینی قدم نہیں اٹھا رہے۔ ان کے مطابق: "جس طرح کوئی مندر یا چرچ بنا سکتا ہے، اسی طرح ہم مسجد بھی بنا سکتے ہیں۔”
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ بابری مسجد گرائی گئی تھی اور ہندو جذبات کے پیش نظر وہاں مندر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کبیر نے سوال اٹھایا کہ جب ساگر دیگی میں رام مندر کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے تو وہ مسجد کیوں نہیں بنا سکتے؟
ہمایوں کبیر نے بتایا کہ ان پر اب تک پانچ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، مگر وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق: "عدالت نے بھی کہا ہے کہ آئین مسجد بنانے کا حق دیتا ہے۔ اگر اللہ کسی کے ساتھ ہو تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد کی تعمیر کے لیے 300 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں ایک اسپتال، مہمان خانہ اور میٹنگ ہال بھی شامل ہوگا۔
"چار کروڑ مسلمان کیا مسجد نہیں بنا سکتے؟”
انہوں نے کہا کہ بنگال میں چار کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں، اور اگر وہ مسجد بنانا چاہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟ انہوں نے سابق مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں کی جانب سے ملنے والی مبینہ دھمکیوں کا بھی ذکر کیا۔
ادھر بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی پر الزام لگایا کہ انہوں نے ہمایوں کبیر کو جان بوجھ کر دیر سے معطل کیا تاکہ مسلمانوں میں سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
بی جے پی نے کہا کہ کبیر کا ماضی میں مسلمانوں کو 70 فیصد اور ہندوؤں کو 30 فیصد بتا کر دھمکی آمیز بیان دینا انتہائی خطرناک تھا، اور یہ تمام اقدامات ریاست میں عدم استحکام اور مذہبی کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔



