کیرالہ اداکارہ زیادتی کیس:ملیالم فلم اداکار دلیپ دلیپ بری، چھ ملزمان مجرم قرار
کیرالہ کی مشہور اداکارہ کے اغوا اور جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس..
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کیرالہ کی مشہور اداکارہ کے اغوا اور جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں ایک طویل قانونی جنگ کے بعد ملیالم فلم اداکار دلیپ کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ تقریباً 9 سال تک چلتا رہا اور اس دوران فلم انڈسٹری میں شدید ہلچل مچی رہی۔ عدالت نے چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا، جبکہ دلیپ سمیت چار ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
17 فروری 2017 کی رات ملیالم فلم انڈسٹری کی ایک معروف اداکارہ کو کوچی کے قریب ایک چلتی گاڑی میں اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ تھریسور سے واپسی پر ایک گاڑی نے ان کی کار کو ٹکر ماری، جس کے بعد دو افراد زبردستی گاڑی میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ڈرائیور کو دھمکا کر گاڑی کو کوچی کی طرف لے جانے کا حکم دیا اور پھر تقریباً دو گھنٹے تک انہیں یرغمال بنا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ اداکارہ کے مطابق ملزمان نے بلیک میلنگ کی غرض سے تصاویر بھی لیں۔ زیادتی کے بعد وہ ایک ہدایتکار کے گھر پہنچیں، جنہوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے سنيل کمار عرف پلسر سنی کو مرکزی ملزم قرار دیا۔ کچھ عرصے بعد الزام سامنے آیا کہ دلیپ نے ذاتی رنجش کے باعث اس حملے کی سازش کی تھی۔ کہا گیا کہ متاثرہ اداکارہ نے دلیپ کی سابقہ اہلیہ منجو وارئیر کو ان کے ایک مبینہ تعلق کے بارے میں بتایا تھا، جس پر دلیپ ناراض تھے۔ منجو وارئیر نے عدالت میں اس بات کی تصدیق بھی کی۔
دلیپ نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی، لیکن 10 جولائی 2017 کو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ تقریباً تین ماہ حراست میں رہنے کے بعد انہیں ضمانت مل گئی اور اگلے سال مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔
کیس کے ٹرائل میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی، جس کی ایک بڑی وجہ کووڈ-19 وبا بھی بنی۔ عدالت نے 261 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، لیکن کئی گواہ بعد میں منحرف ہو گئے، جس سے مقدمے پر براہِ راست اثر پڑا۔
2021 میں فلم ساز پی بالاچندر کمار نے نئے الزامات لگائے کہ دلیپ گواہوں کو متاثر کرنے اور تفتیشی افسران کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہے تھے۔ اس الزام نے مقدمے کی سمت بدل دی اور ٹرائل عارضی طور پر روک دیا گیا۔ 2022 میں دلیپ پر شواہد میں چھیڑ چھاڑ کے نئے الزامات بھی لگائے گئے۔
بالآخر پرنسپل سیشنز جج ہنی ایم ورگیز نے فیصلہ سناتے ہوئے پلسر سنی سمیت چھ ملزمان کو اغوا، سازش اور جنسی زیادتی کے جرم میں سزاوار قرار دیا۔ تاہم عدالت نے دلیپ کے خلاف سازش کرنے کا الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں بری کر دیا۔
کیرالہ کی حکمران جماعت سی پی ایم نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی تاکہ متاثرہ اداکارہ کو انصاف مل سکے۔ جن ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے، ان کی سزائیں جمعہ کو سنائی جائیں گی۔
یہ کیس ملیالم فلم انڈسٹری میں موجود صنفی عدم مساوات کو نمایاں کرنے کا سبب بنا۔ اسی واقعے کے بعد ویمن ان سینیما کلیکٹو (WCC) کی تشکیل ہوئی، جس نے فلم انڈسٹری میں خواتین کی حفاظت، حقوق اور مساوات پر مضبوط آواز اٹھائی۔
مزید برآں، حکومت کیرالہ نے جسٹس ہیما کمیٹی قائم کی، جس نے فلم انڈسٹری کے اندر شکایات کے ازالے کے نظام، جنسی ہراسانی کے خلاف واضح گائیڈ لائنز اور فلم سیٹس پر انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی بنانے کی سفارشات پیش کیں۔
دلیپ کی بریت نے فلم انڈسٹری اور سماج کے بڑے طبقے کو مایوسی سے دوچار کیا ہے، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر خواتین کی سلامتی اور صنفی انصاف کے حوالے سے بحث کو شدت سے سامنے لے آیا ہے۔



