بین الاقوامی خبریں

فرانس میں ’وزارتِ سچائی‘ کی تیاری، ایمانوئل میکروں حکومت کی فیک نیوز کے خلاف بڑی مہم

ایک ایسا نظام ہو جو سچائی کو تیزی سے اور واضح انداز میں سامنے لائے۔

پیرس :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)فرانس میں فیک نیوز اور غلط معلومات کے خدشات نے حکومت کو ایک نئے حل کی تلاش میں لگا دیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکروں نے حالیہ تقریر میں اشارہ دیا کہ ملک میں سچائی کو مضبوطی سے پیش کرنے اور فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی جا سکتی ہے جسے غیر رسمی طور پر "ٹرتھ منسٹری” یعنی وزارتِ سچائی کہا جا رہا ہے۔ میکروں نے عوامی سطح پر کہا کہ آج کے دور میں یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا نظام ہو جو سچائی کو تیزی سے اور واضح انداز میں سامنے لائے۔

برطانوی روزنامہ دی ٹیلی گراف نے اس پیش رفت کو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ممکنہ کنٹرول کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے اور اسے مشہور ادیب جارج آرویل کے ناول 1984 میں موجود "منسٹری آف ٹرتھ” سے تشبیہ دی ہے، جہاں معلومات پر حکومتی گرفت دکھائی گئی تھی۔ تاہم فرانسیسی حکومت نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی حکومت کا مقصد میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ حکام کے مطابق تجویز کا اصل مقصد غلط معلومات کو روکنا اور عوام تک درست حقائق کو پہنچانا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس ممکنہ وزارت کا کام فیک نیوز کی نشاندہی کرنا، اس کے خلاف فوری سچائی پیش کرنا، عوام کو روزانہ کی بریفنگ دینا اور ایک ایسا سسٹم قائم کرنا ہوگا جو ملک بھر میں گردش کرنے والی غلط معلومات کی مسلسل نگرانی کرے۔ حکومت نے اب تک وزارت کے ڈھانچے اور طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ کہا جا رہا ہے کہ اس تجویز پر ابھی مشاورت جاری ہے۔

فرانس میں فیک نیوز کی صورتحال کافی سنگین سمجھی جاتی ہے۔ 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں 50 فیصد سے زیادہ افراد نے بتایا کہ انہیں ہر ہفتے فیک نیوز دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ 60 فیصد افراد تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار فیک نیوز کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 66 ملین آبادی والے ملک میں غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے اثرات معاشرتی ہم آہنگی اور سیاسی فیصلوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں، اسی لیے حکومت کسی مضبوط حکمتِ عملی کی تلاش میں ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن نے اس منصوبے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر لی پین نے کہا کہ حکومت فیک نیوز کے نام پر مین اسٹریم میڈیا کو دبانے کی کوشش کر سکتی ہے اور اس طرح صحافتی آزادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اس تجویز کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی قسم کی ’وزارتِ سچائی‘ آزادی اظہار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے جبکہ حکومت اسے محض سچائی اور حقائق کے تحفظ کی کوشش قرار دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button