
باورچی خانے سے عدالت تک،پیاز اور لہسن کا تنازع 11 سالہ شادی ختم کرا گیا
گھر میں الگ الگ کھانا، رشتے میں بڑھتی دوری،11 سال بعد شادی ٹوٹ گئی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)احمد آباد میں ایک غیر معمولی مگر سبق آموز طلاق کیس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں کھانے میں پیاز اور لہسن کے استعمال پر ہونے والے اختلاف نے 11 سالہ شادی کو انجامِ طلاق تک پہنچا دیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے اس تنازع پر بیوی کی جانب سے دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
جوڑے کی شادی 2002 میں ہوئی تھی۔ بیوی سوامی نارائن فرقے سے تعلق رکھتی تھی اور اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے پیاز اور لہسن کھانے سے سخت پرہیز کرتی تھی، جبکہ شوہر اور ساس ایسا نہیں کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ کھانے کے معمولات پر ہونے والے اختلافات نے جھگڑوں کی شکل اختیار کی، حتیٰ کہ گھر میں کھانا پکانے کا الگ انتظام کرنا پڑا۔ یہ تقسیم شدہ باورچی خانہ بعد میں ازدواجی تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ بن گیا۔
جھگڑوں میں شدت آنے کے بعد بیوی بچے کے ساتھ شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی گئی۔سال 2013 میں شوہر احمد آباد منتقل ہو گیا اور فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیوی کی خوراک سے متعلق سخت پابندیوں اور مسلسل تنازع نے زندگی اجیرن کر دی۔
فیملی کورٹ نے 2024 میں شوہر کی درخواست منظور کرتے ہوئے طلاق کا حکم جاری کیا اور شوہر کو کفالت ادا کرنے کا پابند بنایا۔
بیوی نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔اہلیہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذہبی اصولوں کے مطابق پیاز اور لہسن نہ کھانا کوئی ظلم یا زیادتی نہیں، بلکہ ذاتی و مذہبی اختیار ہے۔
دوسری جانب شوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اور اس کی والدہ نے بیوی کے لیے علیحدہ کھانا بھی پکایا، لیکن تنازع برقرار رہا۔ حتیٰ کہ اسے خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کرانا پڑی۔ شوہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک موقع پر بیوی نے خود طلاق پر عدمِ اعتراض ظاہر کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ فیملی کورٹ کا فیصلہ درست ہے، اور شوہر کی جانب سے واجب الادا رقم اقساط میں جمع کرانے کی یقین دہانی کے بعد بیوی کی اپیل خارج کر دی گئی۔
یہ معاملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گھریلو زندگی میں کھانے پینے جیسے معمولی اختلافات اگر حل نہ کیے جائیں تو وہ وقت کے ساتھ بڑے تنازعات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ احمد آباد کا یہ کیس اس تلخ حقیقت کی مثال ہے جس نے ایک دہائی سے زیادہ پر محیط رشتہ ختم کر دیا۔



