قومی خبریں

جعلی نمبر پلیٹ کیس میں چیتنیانند سرسوتی 14 روزہ حراست میں، ساتھ ہی جنسی استحصال معاملہ بھی زیرِ تفتیش

پہلے ہی 16 طالبات کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں گرفتار ہیں

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے منگل کے روز چیتنیانند سرسوتی کو جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ استعمال کرنے کے مقدمے میں 14 روزہ عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ سرسوتی، جو پہلے ہی 16 طالبات کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں گرفتار ہیں، اب ایک نئے قانونی محاذ کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ چیتنیانند اپنی گاڑی پر ڈپلومیٹک مشن کی جعلی نمبر پلیٹ لگا کر سفر کرتے رہے، جس کا مقصد خود کو بااثر ظاہر کرنا اور قانونی کارروائی سے بچنا تھا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جعلی پلیٹ کا استعمال دانستہ اور منظم طریقے سے کیا گیا۔

عدالت نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس سے تمام شواہد اور ریکارڈ بروقت پیش کرنے کی ہدایت کی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اس قسم کی جعل سازی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔

چیتنیانند سرسوتی کے خلاف جنسی استحصال کا مقدمہ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ دہلی کے ایک تعلیمی ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں، جہاں 16 طالبات نے الزام عائد کیا کہ سرسوتی نے مذہبی شناخت اور عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ساتھ نازیبا حرکات اور جنسی استحصال کیا۔ ستمبر میں انہیں آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ کافی عرصے سے جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ استعمال کرتے رہے، جس نے ان کے خلاف نئے مقدمے کی بنیاد فراہم کی۔ دونوں کیسز اس وقت ایک ساتھ زیرِ سماعت ہیں اور آئندہ تاریخوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں مقدمات میں شواہد مضبوط ثابت ہوئے تو سرسوتی کے لیے قانونی محاذ مزید سخت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button