
62 سال بعد انصاف:ہائی کورٹ نے 80 سالہ آنند کو 18 ہزار میں 7 کروڑ کی زمین دلوا دی
سی کے آنند کا مقدمہ: 18 سال کی عمر میں آغاز، 80 برس میں انصاف
نئی دہلی/پنجاب :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت کی آزادی کے ابتدائی برسوں میں شروع ہونے والا ایک طویل قانونی تنازع آخرکار 62 سال بعد اپنے انجام کو پہنچ گیا۔پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے فرید آباد کے زمین مقدمے میں 80 سالہ سی کے آنند کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے دہائیوں پرانے قانونی تنازع کو ختم کر دیا۔۔یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کا اختتام ہے جو دہائیوں تک عدالتی نظام میں زیرِ سماعت رہا۔
یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا تھا جب سی کے آنند محض 18 سال کے تھے۔ وقت گزرتا گیا، نسلیں بدل گئیں، مگر قانونی جدوجہد جاری رہی، اور اب 80 برس کی عمر میں انہوں نے یہ تاریخی کیس جیت لیا۔ یہ پہلو اس مقدمے کو محض ایک جائیداد تنازع نہیں بلکہ صبر اور انصاف کی ایک غیر معمولی مثال بنا دیتا ہے۔
یہ معاملہ 1963 میں اس وقت شروع ہوا جب M/s R.C. Sood & Company Limited نامی ریئل اسٹیٹ کمپنی نے فرید آباد کے سورج کنڈ علاقے کے قریب “ایروس گارڈنز” کے نام سے ایک رہائشی کالونی لانچ کی۔ اس منصوبے کے تحت سی کے آنند کی والدہ نانکی دیوی کو دو پلاٹس الاٹ کیے گئے، جن میں ایک 350 مربع گز اور دوسرا 217 مربع گز رقبے پر مشتمل تھا۔ اس وقت ان پلاٹس کی قیمت بالترتیب 24 اور 25 روپے فی مربع گز طے کی گئی تھی۔
نانکی دیوی نے پلاٹس کی کل قیمت کا تقریباً نصف حصہ اسی وقت ادا کر دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ریئل اسٹیٹ کمپنی نے زمین کا قبضہ خریدار کو نہیں دیا۔ کبھی سرکاری منظوریوں کا حوالہ دیا گیا اور کبھی انتظامی رکاوٹوں کو تاخیر کی وجہ بتایا گیا۔ اسی دوران Punjab Scheduled Roads and Controlled Areas Act 1963 اور بعد ازاں Haryana Development and Regulation of Urban Areas Act 1975 نافذ ہوئے، جنہیں ڈیولپر نے اپنی تاخیر کا جواز بنایا۔
1980 کی دہائی میں خریدار خاندان کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ پلاٹس کسی تیسرے فریق کو فروخت نہ کر دیے جائیں۔ اس اندیشے کے پیش نظر نانکی دیوی نے عدالت کا رخ کیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ الاٹمنٹ برقرار ہے اور کمپنی یکطرفہ طور پر اسے منسوخ نہیں کر سکتی، مگر اس کے باوجود زمین کا قبضہ خریدار کو نہیں دیا گیا۔
یہ تنازع 2002 میں ایک بار پھر مکمل قانونی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ نچلی عدالتوں نے سی کے آنند کے حق میں فیصلے سنائے، تاہم ریئل اسٹیٹ ڈیولپر نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ الاٹمنٹ 1964 میں منسوخ ہو چکی تھی، مقدمہ وقت کی حد سے باہر ہے، اور چھ دہائیوں پرانے معاہدے کو موجودہ دور میں نافذ کرنا غیر منصفانہ ہوگا۔
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ان تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو فریق دہائیوں تک اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہ کرے، وہ آج جائیداد کی بڑھتی قیمتوں کو اپنے دفاع میں استعمال نہیں کر سکتا۔ جسٹس دیپک گپتا کی قیادت میں بنچ نے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے خریدار کے حق میں حتمی حکم سنایا۔
عدالت نے ہدایت دی کہ زمین سی کے آنند کو 1963 کی طے شدہ قیمت پر دی جائے، تاہم اس پر 25 فیصد اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس حساب سے جس زمین کی قیمت اس وقت تقریباً 14 ہزار روپے تھی، وہ آج محض 18 ہزار روپے میں خریدار کو منتقل کی جائے گی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس زمین کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 7 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ یوں 62 سالہ طویل قانونی جدوجہد کے بعد ایک بزرگ شہری کو بالآخر انصاف ملا، جو بھارتی عدالتی تاریخ میں ایک مضبوط اور یادگار مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ جہاں عدالتی تاخیر پر سوال اٹھاتا ہے، وہیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ انصاف میں دیر ہو سکتی ہے، مگر اگر حق سچا ہو تو انصاف آخرکار مل ہی جاتا ہے۔



