نتیش کمار سے مسلم ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے پر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ : جاوید اختر
“میں پردے کے روایتی تصور کا مخالف ہوں، لیکن کسی خاتون کی ذاتی آزادی اور وقار کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔” — جاوید اختر
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر شدید تنقید کرتے ہوئے پٹنہ میں پیش آئے ایک واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ ایک سرکاری تقریب کے دوران سامنے آیا، جہاں وزیراعلیٰ کو ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس عمل پر سوشل میڈیا سے لے کر سماجی و سیاسی حلقوں تک شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
جاوید اختر نے جمعرات (18 دسمبر) کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک واضح اور دوٹوک پیغام میں کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر پردے کے روایتی تصور کے ناقد ہیں، تاہم کسی خاتون کی ذاتی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کسی بھی نظریاتی اختلاف کا جواز نہیں بن سکتی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نتیش کمار کا یہ عمل ناقابلِ قبول ہے اور وہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ مسلم خاتون ڈاکٹر سے غیر مشروط معافی مانگیں۔
یہ واقعہ مبینہ طور پر پیر کے روز پٹنہ میں منعقد ایک سرکاری تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار آیوش (AYUSH) ڈاکٹروں میں اسناد تقسیم کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ ایک خاتون ڈاکٹر کو اشارہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا حجاب ہٹائیں، اور جواب ملنے سے پہلے ہی وہ خود ہاتھ بڑھا کر حجاب نیچے کر دیتے ہیں، جس سے خاتون کا منہ اور ٹھوڑی عارضی طور پر ظاہر ہو جاتی ہے۔
اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد عوامی غصہ تیزی سے بڑھا، اور متعدد شخصیات نے اسے خواتین کی عزت، مذہبی آزادی اور ذاتی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
تاحال نتیش کمار یا بہار حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان یا معافی سامنے نہیں آئی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔



