ہوٹل میں 30 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی،تین ملزمان گرفتار
متاثرہ خاتون ایک نجی اسپتال میں ملازمت کرتی ہے
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر میں خواتین کے خلاف جرائم کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ چھترپتی سامبھاجی نگر کے ریلوے اسٹیشن علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں 30 سالہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے محض تین گھنٹوں کے اندر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون ایک نجی اسپتال میں ملازمت کرتی ہے اور اپنی سہیلی سے ملنے کے لیے ہوٹل گئی تھی۔ اس کی سہیلی کمرہ نمبر 105 میں مقیم تھی۔ ملاقات کے بعد واپسی کے دوران خاتون غلطی سے دوسری منزل پر پہنچ گئی اور کمرہ نمبر 205 کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
کمرے کے اندر تین نوجوان شراب نوشی میں مصروف تھے۔ خاتون کو دیکھتے ہی انہوں نے اسے زبردستی کمرے کے اندر گھسیٹ لیا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے خاتون کو جبراً بیئر پلائی اور پوری رات اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔
صبح سویرے موقع پاکر متاثرہ خاتون ملزمان کے چنگل سے فرار ہو گئی اور چیختی چلاتی ہوٹل سے باہر نکل آئی۔ اس کے بعد وہ سیدھا ویدنت نگر پولیس اسٹیشن پہنچی اور واقعے کی تحریری شکایت درج کروائی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالیں اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تین گھنٹوں کے اندر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت گھَنشیام بھولال راتھوڑ، رِشیکیش تُلسیرام چوان اور کرن لکشمن راتھوڑ کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف اجتماعی زیادتی سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور خواتین کے تحفظ پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔



