بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

سانپ کے زہر سے باپ کا قتل، لائف انشورنس کے لیے بیٹوں نے کھیلا خونی کھیل

سانپ کے ذریعے قتل کا معاملہ، تمل ناڈو پولیس کی تحقیقات

چینائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تمل ناڈو میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے رشتوں کی حرمت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدا میں جس موت کو سانپ کے کاٹنے کا ایک عام حادثہ سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل لائف انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے رچی گئی ایک سفاک سازش نکلی۔

پولیس کے مطابق 56 سالہ ای۔پی۔ گنیشن، جو ایک سرکاری اسکول میں لیاب اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اکتوبر میں پوتھاتھورپٹائی گاؤں میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ گنیشن کو سانپ نے کاٹ لیا تھا، جس پر پولیس نے ابتدائی طور پر حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا۔

تاہم معاملہ اس وقت مشکوک ہو گیا جب گنیشن کے بیٹوں نے ان کی لائف انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے درخواست دی۔ انشورنس کمپنی نے غیر معمولی رویے اور کچھ تضادات کو دیکھتے ہوئے پولیس سے دوبارہ تحقیقات کی درخواست کی۔

تفصیلی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مقتول کے بیٹوں نے مشترکہ طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے کی لائف انشورنس پالیسی لی ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی رقم کے لالچ میں بیٹوں نے اپنے ہی باپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

تحقیقات کے مطابق قتل سے ایک ہفتہ قبل ایک زہریلے کوبرا کے ذریعے گنیشن کو ڈسوانے کی کوشش کی گئی، مگر وہ کوشش ناکام رہی۔ اس کے بعد سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اور خطرناک زہریلا کریٹ سانپ لایا گیا، جسے گنیشن کی گردن پر ڈسوا دیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد جان بوجھ کر متاثرہ کو بروقت اسپتال نہیں لے جایا گیا تاکہ معاملہ حادثہ ہی ظاہر ہو۔ بعد میں ثبوت مٹانے کے لیے سانپ کو گھر کے اندر ہی مار دیا گیا۔

اس لرزہ خیز معاملے میں پولیس نے مقتول کے دو بیٹوں سمیت مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے زہریلے سانپوں کا بندوبست کیا یا قتل کو حادثہ ثابت کرنے میں مدد کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button