قومی خبریں

NEET UG: ایم بی بی ایس کی نشستوں میں ریکارڈ اضافہ، پھر بھی ہزاروں سیٹیں خالی کیوں؟

ایم بی بی ایس سیٹوں میں تاریخی اضافہ، مگر رسائی اب بھی مشکل

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان میں ایم بی بی ایس کی نشستوں کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود ہزاروں سیٹوں کا خالی رہ جانا ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔ اکتوبر 2025 میں نیشنل میڈیکل کمیشن نے ایک ساتھ 10,650 نئی ایم بی بی ایس نشستوں اور 41 نئے میڈیکل کالجوں کی منظوری دی، جس کے بعد ملک میں ایم بی بی ایس کی کل نشستیں تقریباً 1.37 لاکھ تک پہنچ گئیں۔ اگر 2013-14 کا موازنہ کیا جائے تو اس وقت ملک میں ایم بی بی ایس کی صرف 51 ہزار کے قریب نشستیں تھیں، جو 2024-25 تک بڑھ کر 1.18 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں۔ صرف 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان ایم بی بی ایس نشستوں میں تقریباً 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نشستوں میں اس تیز رفتار اضافے کے باوجود، طبی تعلیم تک رسائی عام طلبہ کے لیے بدستور مشکل بنی ہوئی ہے۔ حال ہی میں راجیہ سبھا میں پیش کی گئی صحت اور خاندانی بہبود کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 167ویں رپورٹ میں اس تضاد پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ اب صرف نشستوں کی تعداد کا نہیں رہا، بلکہ یہ اس بات سے جڑا ہے کہ یہ نشستیں کن ریاستوں میں ہیں، ان کی فیس کتنی ہے اور وہاں فراہم کی جانے والی تعلیم و تربیت کا معیار کیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے مطابق، ملک کی مختلف ریاستوں میں ایم بی بی ایس نشستوں کی تقسیم انتہائی غیر مساوی ہے۔ قومی اوسط اگرچہ فی دس لاکھ آبادی پر 75 نشستوں کی ہے، مگر کئی ریاستیں اس معیار سے بہت پیچھے ہیں۔ کرناٹک، تلنگانہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں فی دس لاکھ آبادی پر تقریباً 150 ایم بی بی ایس نشستیں دستیاب ہیں، جبکہ بہار میں یہ تعداد محض 21 ہے۔ کئی ریاستوں میں یہ شرح 50 سے بھی کم ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس عدم توازن کی وجہ سے طلبہ کو ایک ریاست سے دوسری ریاست یا یہاں تک کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دہلی جیسے بڑے تعلیمی مرکز سے بھی ہر سال ہزاروں طلبہ ایم بی بی ایس کے لیے دوسری ریاستوں یا ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی میں مزید میڈیکل کالج قائم کیے جائیں تاکہ مقامی طلبہ کو نشستوں کی کمی کے باعث ہجرت نہ کرنی پڑے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ نشستوں کی قلت صرف غریب یا پسماندہ ریاستوں کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ بڑے شہری مراکز بھی اس بحران سے متاثر ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی نے طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ملک کو مختلف زونز میں تقسیم کر کے ایمس جیسے بڑے اداروں کو مینٹور بنایا جائے، تاکہ نئے اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی نگرانی اور رہنمائی کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح پر امتحانی نظام کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے اور نیتی آیوگ سے جلد رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔

فیس کے مسئلے پر بھی کمیٹی نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں کم از کم 50 فیصد نشستوں پر ریاستی حکومت کی مقررہ فیس لاگو کی جائے اور ان نشستوں کی فیس کا تعین ریاستی فیس ریگولیٹری کمیٹی کرے۔ اس کے علاوہ، فیکلٹی کی کمی اور گھوسٹ فیکلٹی جیسے مسائل کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، خصوصاً دور دراز علاقوں کے میڈیکل کالجوں میں اساتذہ کو راغب کرنے کے لیے بہتر تنخواہ، ملازمت کی حفاظت اور کیریئر میں ترقی جیسی سہولتوں کی سفارش کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، زیادہ مانگ کے باوجود ہر سال ایم بی بی ایس کی ہزاروں نشستیں خالی رہ جاتی ہیں۔ 2024-25 میں 2,849 انڈرگریجویٹ میڈیکل سیٹیں خالی رہیں، جبکہ 2022-23 میں یہ تعداد 4,100 سے تجاوز کر گئی تھی۔ یہ خالی نشستیں زیادہ تر مہنگی فیس والے پرائیویٹ کالجوں، دور دراز یا نئے قائم شدہ اداروں اور ان ریاستوں میں پائی جاتی ہیں جہاں طلبہ جانا نہیں چاہتے یا مالی مجبوریوں کے باعث جا نہیں سکتے۔

رپورٹ کے مطابق، مسئلہ طب میں دلچسپی کی کمی کا نہیں بلکہ سستی اور معیاری طبی تعلیم تک رسائی کا ہے۔ لاکھوں طلبہ NEET امتحان پاس کرتے ہیں، مگر سرکاری کالجوں کے لیے درکار کٹ آف نمبروں تک نہیں پہنچ پاتے، جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی فیسیں 70 لاکھ سے 1.25 کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہونے کے باعث زیادہ تر خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان بنیادی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو نشستوں میں اضافہ محض ایک عددی کامیابی بن کر رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button