دوسا: بجلی چوری پر کارروائی کرنے والوں کو درخت سے باندھنے کی دھمکی، بی جے پی ایم ایل اے رام ولاس مینا کا متنازع بیان
متنازع بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی
دوسا :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان کے دوسا ضلع کے لالسوٹ اسمبلی حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے رام ولاس مینا نے بجلی چوری کے خلاف کارروائی کرنے والے محکمۂ بجلی کے افسران اور ملازمین سے متعلق ایک انتہائی متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف انتظامیہ بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی شدید ہلچل مچا دی ہے۔
ایم ایل اے رام ولاس مینا نے اپنے حلقے کے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر بجلی کارپوریشن کی وی سی آر (ویجیلنس کمرشل رپورٹ) ٹیم بجلی چوری کے خلاف کارروائی کے لیے آئے تو اس کی مزاحمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افسران اور ملازمین کی گاڑیوں کو پنکچر کر دیا جائے اور انہیں درختوں سے باندھ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں جو بھی ہوگا، اس کی ذمہ داری وہ خود لیں گے۔
ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رام ولاس مینا گاؤں والوں کے درمیان کھڑے ہو کر وی سی آر ٹیموں کے خلاف کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اگر وی سی آر کے نام پر کوئی آئے تو اس کی گاڑی کو ناکارہ بنا دیا جائے۔
اس بیان کا پس منظر یہ بتایا جا رہا ہے کہ دو دن قبل سیسودیا گاؤں کے رہائشیوں نے بجلی کارپوریشن کی ٹیم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وی سی آر کے نام پر غیر قانونی طور پر رقم وصول کر رہی ہے۔ اس شکایت کے بعد ایم ایل اے موقع پر پہنچے تھے، جہاں انہوں نے کہا کہ لکشمن گڑھ علاقے میں کسی بھی قسم کی مبینہ بھتہ وصولی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایم ایل اے نے گاؤں والوں کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی وی سی آر ٹیم کارروائی کے لیے آئے تو وہ براہ راست انہیں فون کریں، اور وہ دس منٹ کے اندر موقع پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے دوبارہ دہراتے ہوئے کہا کہ وی سی آر کے نام پر آنے والی ٹیموں کی گاڑیوں کو پنکچر کیا جائے اور اہلکاروں کو روکا جائے۔
تاہم اس پورے معاملے نے ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر حکمراں جماعت کے عوامی نمائندے ہی اس طرح کے بیانات دے کر لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ترغیب دیں گے تو بجلی چوری جیسے مسئلے پر قابو کیسے پایا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات سے نہ صرف سرکاری اہلکاروں کا حوصلہ متاثر ہوتا ہے بلکہ بجلی چوری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے، جس کا نقصان آخرکار عوام اور سرکاری خزانے کو اٹھانا پڑتا ہے۔



