مہاراشٹر میں اسکولوں کے ناموں میں گلوبل اور انٹرنیشنل کے استعمال پر پابندی
’گلوبل‘ اور ’انٹرنیشنل‘ جیسے الفاظ کا بے جا استعمال ایک رجحان بن چکا ہے
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر حکومت نے تعلیمی شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کو بغیر اہلیت اپنے ناموں میں ’انٹرنیشنل‘ یا ’گلوبل‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد والدین اور طلبہ کو گمراہ ہونے سے بچانا اور تعلیمی اداروں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق، اب وہی اسکول اپنے نام میں ’انٹرنیشنل‘ یا ’گلوبل‘ کا لفظ استعمال کر سکیں گے جو مقررہ معیارات پر پورا اترتے ہوں۔ ان معیارات میں بیرونِ ملک کیمپس کا ہونا یا تسلیم شدہ بین الاقوامی نصاب (جیسے IB یا Cambridge) پیش کرنا شامل ہے۔
مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تمام ضلعی اور مقامی تعلیمی افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نئے قائم ہونے والے اسکولوں کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود اداروں کی بھی جانچ کریں۔ جو اسکول ان الفاظ کے استعمال کے معیار پر پورا نہیں اترتے، انہیں اپنے نام تبدیل کرنے ہوں گے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں نام کی تبدیلی کے احکامات یا مزید تفتیش شامل ہو سکتی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں ’گلوبل‘ اور ’انٹرنیشنل‘ جیسے الفاظ کا بے جا استعمال ایک رجحان بن چکا ہے،جس سے والدین کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف والدین کو درست معلومات ملیں گی بلکہ اسکولوں کے معیار اور ساکھ میں بھی بہتری آئے گی۔ حکومت کا یہ قدم تعلیمی نظام کو منظم اور شفاف بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



