سرحدی کشیدگی کے دوران آسام پولیس اور بی ایس ایف کی کارروائی، 19 غیر قانونی تارکینِ وطن ملک بدر
19 غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بنگلہ دیش میں سیاسی کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد بھارت مخالف مظاہروں اور کشیدگی کے ماحول کے درمیان آسام میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ آسام پولیس اور بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے مشترکہ آپریشن کے دوران 19 غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے اس کارروائی کو غیر قانونی دراندازوں کے لیے "فل ڈومز ڈے لمحہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے لیے پیغام بالکل واضح ہے اور اب ایسے افراد کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ غیر قانونی تارکینِ وطن آسام کے ناگاؤں اور کاربی آنگلانگ اضلاع سے پکڑے گئے تھے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں سرحد پار بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔
اس سے قبل رواں ماہ ناگاؤں کے ضلع مجسٹریٹ نے 15 ایسے افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر آسام چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جنہیں فارنرز ٹریبونل کی جانب سے غیر ملکی قرار دیا جا چکا تھا۔ یہ حکم امیگرنٹس (ایکسپلشن فرام آسام) ایکٹ 1950 کے تحت جاری کیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق ان افراد کو دھوبری، سری بھومی یا جنوبی سلمارا-مانکچر کے راستے بنگلہ دیش جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان میں سے کچھ کو گوآلپاڑا کے متیا ٹرانزٹ کیمپ میں رکھا گیا، جبکہ کچھ افراد مختلف آسام پولیس بٹالین میں موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے مئی میں بتایا تھا کہ آسام میں تقریباً 30 ہزار ایسے افراد لاپتہ ہیں جنہیں پہلے ہی غیر ملکی قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق پولیس دو زمروں میں کارروائی کر رہی ہے، ایک وہ لوگ جو حالیہ برسوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے، اور دوسرے وہ جو پہلے ہی ٹریبونل کے فیصلے کے بعد بھی روپوش ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے 1950 کے قانون کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کو اقلیتی طبقات کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو زبردستی سرحد پار بھیجنے کے خدشات موجود ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد شدید پرتشدد مظاہرے ہوئے، جن میں اخبارات اور ثقافتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران ایک ہندو شخص کو مبینہ طور پر مذہب کی توہین کے الزام میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں اس کی نعش کو آگ لگا دی گئی، تاہم مقتول کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ دیپو کو کسی توہینِ مذہب کے الزام پر نہیں بلکہ فیکٹری میں کام کے دوران پیدا ہونے والے تنازع اور پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے بے دردی سے قتل کیا گیا۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1,885 کلومیٹر طویل سرحد، جو پانچ شمال مشرقی ریاستوں سے گزرتی ہے، اس وقت سخت نگرانی میں ہے۔ بنگلہ دیش میں سیاسی بے چینی کے بعد بی ایس ایف نے سرحدی گشت اور تکنیکی نگرانی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔



