قومی خبریں

نیشنل ہیرالڈ کیس: دہلی ہائی کورٹ نے سونیا اور راہل گاندھی کو نوٹس جاری کر دیا

اگلی سماعت 12 مارچ 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں پیر کے روز اہم پیش رفت ہوئی، جب دہلی ہائی کورٹ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر ملزمین کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ نوٹس جسٹس رویندر دوديجا کی سنگل بنچ نے جاری کیا۔ عدالت نے نہ صرف اصل درخواست بلکہ ای ڈی کی جانب سے دائر کردہ حکمِ امتناع کی درخواست پر بھی فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 12 مارچ 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

ای ڈی نے راؤز ایونیو عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ قانون کے تحت دائر ای ڈی کی شکایت پر سماعت سے انکار کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ کا کہنا تھا کہ ای ڈی کی جانب سے پیش کی گئی شکایت قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں۔

البتہ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ای ڈی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جانچ جاری رکھ سکتی ہے۔

ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ای ڈی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسیٹر جنرل نے دلیل دی کہ اگر ٹرائل کورٹ کا حکم برقرار رہا تو منی لانڈرنگ سے متعلق قانون عملاً بے معنی ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے یہ کہہ کر سنگین قانونی غلطی کی کہ اگر کسی معاملے میں نجی شکایت پر پہلے ہی عدالت نے نوٹس لے لیا ہو تو ای ڈی کارروائی نہیں کر سکتی، جس سے مستقبل کے کئی مقدمات متاثر ہو سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ آیا کوئی ایسا مقدمہ موجود ہے جس میں نجی شکایت پر عدالت کے نوٹس کے بعد ای ڈی نے کارروائی کی ہو۔اس پر ای ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ منی لانڈرنگ قانون میں مقدمہ درج کرنے کا کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں، بلکہ صرف کسی بنیادی جرم سے جڑی مجرمانہ سرگرمی کا الزام ہونا کافی ہے۔

یہ مقدمہ الزام ہے کہ کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کے دو ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ حاصل کیا۔الزام کے مطابق، ینگ انڈین نامی کمپنی کے ذریعے صرف پچاس لاکھ روپے ادا کر کے یہ کنٹرول حاصل کیا گیا، جس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اکثریتی حصے دار ہیں۔

یہ تنازعہ 2012 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے عدالت میں نجی شکایت دائر کرتے ہوئے دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے الزامات عائد کیے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button