تلنگانہ ہائی کورٹ کا تمام سرکاری احکامات آن لائن شائع کرنے کا حکم
15 ہزار 774 سرکاری احکامات اب تک عوامی ڈومین میں موجود نہیں ہیں
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو سخت ہدایت دی ہے کہ تمام سرکاری احکامات، سرکاری سرکلرز، قواعد و ضوابط اور نوٹیفکیشنز کو سرکاری ویب سائٹ پر عوامی رسائی کے لیے فوری طور پر شائع کیا جائے۔
عدالت کے سنگل جج پر مشتمل بنچ نے اس بات پر شدید ناراضگی ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں جاری کیے گئے سرکاری احکامات اب تک عوام کے لیے آن لائن دستیاب نہیں ہیں۔
جسٹس سوریپلی نندا نے واضح طور پر کہا کہ عوام کو حکومت کے ان فیصلوں اور پالیسیوں تک رسائی کا مکمل اور ناقابلِ انکار حق حاصل ہے جو عوامی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ شفاف حکمرانی جمہوریت کی بنیاد ہے، نہ کہ حکومت کی مرضی۔
ہائی کورٹ نے 10 اپریل 2017 کو جاری کیے گئے سرکاری حکم نمبر 4 کا حوالہ دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس میں درج رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے، جس کے تحت تمام سرکاری دستاویزات کو آن لائن شائع کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ سابق چیئرمین تلنگانہ ایس سی / ایس ٹی کمیشن ایرولا سرینواس کی جانب سے دائر کی گئی رٹ درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جان بوجھ کر سرکاری احکامات کو ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا، جس کے نتیجے میں عوام کے حقِ معلومات کی خلاف ورزی ہوئی اور بدعنوانی کے امکانات میں اضافہ ہوا۔ ان کے وکیل نے عدالت میں حقِ معلومات قانون کے تحت حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار بھی پیش کیے۔
حقِ معلومات کے تحت دیے گئے جواب میں بھارت راشٹرا سمیتی کے رکنِ اسمبلی ٹی ہریش راؤ کو محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس اور مواصلات نے بتایا کہ 7 دسمبر 2023 سے 26 جنوری 2025 کے درمیان جاری کیے گئے 19 ہزار 64 سرکاری احکامات (جی او) میں سے صرف 3 ہزار 290 احکامات ہی عوامی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
سرکاری جواب کے مطابق 15 ہزار 774 سرکاری احکامات اب تک عوامی ڈومین میں موجود نہیں ہیں، جو شفاف حکمرانی کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ادھر ہائی کورٹ کے اس حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ یہ نام نہاد “عوامی حکومت” کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صرف خود کو عوامی حکومت کہنا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی بتانا ہوگا کہ پردے کے پیچھے کن خفیہ سرکاری احکامات کے ذریعے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت کا عوامی راج کا دعویٰ اس وقت بے نقاب ہو گیا جب حقِ معلومات کی بنیاد پر دائر کی گئی اس عوامی مفاد کی درخواست کے ذریعے حقیقت سامنے آئی۔



