
راجستھان کے 24 مواضعات میں بہو اور بیٹیوں کے اسمارٹ فون پر پابندی، پنچایت کے فیصلے پر تنازع
صرف سادہ کی پیڈ والے موبائل فون رکھنے کی اجازت۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان کے ضلع جالور میں خواتین سے متعلق ایک فیصلے نے سماجی اور حقوقِ نسواں کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سندھا ماتا پٹی کے چودھری سماج کی پنچایت نے اپنے زیرِ اثر 24 سے زائد مواضعات میں بہوؤں اور بیٹیوں کے اسمارٹ فون استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔
یہ پابندی بھین مال اور رانی واڑا اسمبلی حلقوں کے مختلف دیہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ پنچایت کے فیصلے کے مطابق اب بہو، بیٹیاں، اسکولی طالبات اور کالج میں زیرِ تعلیم لڑکیاں اسمارٹ فون استعمال نہیں کر سکیں گی۔ انہیں صرف سادہ کی پیڈ والے موبائل فون رکھنے کی اجازت ہوگی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی سطح پر خواتین کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کی مہمات جاری ہیں۔ حالیہ برسوں میں خواتین کو ٹیبلیٹ اور اسمارٹ ڈیوائسز فراہم کر کے تعلیم، روزگار اور خود انحصاری کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پنچایت کا یہ قدم کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
سندھا ماتا پٹی چودھری سماج کے سربراہ سجانا رام کے مطابق، یہ فیصلہ سماج کی ایک اہم میٹنگ میں مشاورت کے بعد کیا گیا۔ پنچ ہمت رام نے اجلاس میں یہ فرمان پڑھ کر سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور نوجوانوں میں موبائل فون کے بڑھتے استعمال سے سماجی مسائل پیدا ہو رہے تھے، اسی لیے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔
یہ حکم سندھا ماتا گجاپورہ، گجی پورا، پاولی، چتروڑی، کام مالا سمیت متعدد مواضعات میں نافذ کیا گیا ہے۔ پنچایت کے بعض اراکین کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو مبینہ منفی اثرات سے بچانا ہے۔
دوسری جانب اسی سماج سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ اور دیگر عوامی نمائندوں، جن میں لمبا رام چودھری، دیو جی ایم پٹیل، جوگا رام پٹیل، جیوا رام چودھری اور پورا رام چودھری شامل عوامی نمائندوں نے اس فیصلے کو سماج کے اندرونی معاملات سے جڑا ہوا قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی زبردستی یا قانونی خلاف ورزی کی شکایت سامنے آتی ہے تو پولیس کارروائی کرے گی۔
یہ معاملہ اب دیہی سماج میں روایت، ٹیکنالوجی اور خواتین کے حقوق کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں ردعمل مزید تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



