بین الاقوامی خبریں

سنجیدہ اور براہِ راست مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔واشنگٹن کا تہران کو پیغام

ایران کا ردِعمل: اعتماد بحال کرنا مغرب کی ذمہ داری,,,امریکی موقف: مذاکرات ہوں گے، مگر تماشہ نہیں

واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ نے ایک بار پھر ایران کو دوٹوک انداز میں پیغام دیا ہے کہ وہ براہِ راست، سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے آج بھی آمادہ ہے، لیکن یہ عمل صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب تہران باضابطہ اور مقصدی سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے ایک غیر معمولی علانیہ سفارتی تبادلے کے دوران سامنے آئی۔

اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی مشیر اور وزارتِ خارجہ کی سابق ترجمان مورگن اورٹاگس نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ بات چیت سے گریزاں نہیں، لیکن امریکہ میڈیا کی سرخیوں کے لیے مذاکرات نہیں کرے گا۔ان کے مطابق امریکہ ایسی بات چیت چاہتا ہے جو خاموش سفارتی ماحول میں ہو اور جس کا کوئی واضح نتیجہ نکلے۔

مورگن اورٹاگس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی ادوار میں متعدد بار ایران کی طرف سفارت کاری کا ہاتھ بڑھایا تھا، تاہم تہران کی جانب سے اس کا عملی جواب سامنے نہیں آ سکا۔ ان کے بقول، امریکہ اب بھی اسی راستے پر کھڑا ہے، مگر شرائط واضح ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ایران اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے اب امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو اپنا طرزِ عمل بدلنا ہوگا اور ایسے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے جن پر ایران بھروسا کر سکے۔

ایرانی سفیر کے مطابق تہران آج بھی 2015 کے جوہری معاہدے کے بنیادی نکات سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ بدلے میں عالمی پابندیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ معاہدے کی اصل روح کو نقصان مغربی ممالک کے اقدامات سے پہنچا۔

یہ تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلے مزید بڑھ چکے ہیں۔ رواں سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور طے تھا، مگر وہ منسوخ ہو گیا۔اسی تنازع کے دوران امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا، جس سے سفارتی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔

قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست جوہری مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔یاد رہے کہ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو اس جوہری معاہدے سے الگ کر لیا تھا جو ایران اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن ماضی کے فیصلے، حالیہ جنگی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران واقعی بات چیت کی میز تک واپس آ پاتے ہیں یا تنازع مزید طول پکڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button