چین نے اروناچل پردیش پر قبضے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی، جاپان کے جزیروں پر بھی نظریں
اروناچل پردیش پر عسکری قبضے کی تیاری،فوجی طاقت کے ذریعے عالمی بالادستی کی خواہش
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کی تازہ ترین رپورٹ On India–China میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین جیسے جیسے عسکری اور اقتصادی طور پر طاقتور ہو رہا ہے، ویسے ہی وہ عالمی امن کے لیے زیادہ خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کی توسیع پسندانہ پالیسیوں میں تیزی آئی ہے اور اس نے اپنی طویل مدتی قومی حکمتِ عملی میں بھارتی ریاست اروناچل پردیش اور جاپان کے سینکاکو جزائر Senkaku Islands کو بھی شامل کر لیا ہے۔
پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق چین نے 2049 تک ’’چینی قوم کی عظیم تجدید‘‘ (National Rejuvenation) کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین چار اہم جغرافیائی خطوں پر کنٹرول کو مرکزی مقصد سمجھتا ہے، جن میں تائیوان سب سے سرفہرست ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ تائیوان کے جبری الحاق کو اپنی قومی تجدید کے لیے ’’فطری ضرورت‘‘ قرار دے رہا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چین نے اپنے علاقائی دعوؤں کو مزید وسعت دیتے ہوئے اروناچل پردیش کو بھی اپنی طویل مدتی قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنا لیا ہے، اور اس مقصد کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں سمجھتا۔ امریکی حکام کے مطابق بیجنگ خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کے لیے مسلسل فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی قیادت کا ماننا ہے کہ ایک طاقتور چین وہی ہوگا جس کے پاس عالمی معیار کی ایسی فوج ہو جو جنگیں لڑنے اور جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اسی سوچ کے تحت چین دنیا بھر میں اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے دفاع کے نام پر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔
ہندوستان-چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر کئی تعطل کے مقامات سے فوجی علیحدگی کا اعلان ہوا تھا، جس کے بعد براہ راست پروازوں، ویزا اجرا اور سرحدی انتظام پر بات چیت شروع ہوئی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات دراصل چین کی ایک سفارتی چال ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ سرحدی کشیدگی کم ہو چکی ہے تاکہ امریکہ-بھارت تعلقات مزید مضبوط نہ ہوں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ چین کی ان چالبازیوں کے باوجود بھارت محتاط ہے اور دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا بدستور قائم ہے۔ امریکی اندازے کے مطابق یہی محتاط رویہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو محدود اور محتاط دائرے میں رکھے گا۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ پینٹاگون کی یہ رپورٹ نہ صرف بھارت بلکہ پورے ایشیا-بحرالکاہل خطے کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے، جہاں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت آنے والے برسوں میں بڑے جغرافیائی اور سیاسی تناؤ کو جنم دے سکتی ہے۔



