فرضی انکاؤنٹر کا چونکا دینے والا معاملہ: سنبھل عدالت نے 12 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا
فرضی انکاؤنٹر معاملے نے پولیس کی کارروائیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے نے پولیس کی کارروائیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ضلع عدالت نے بہجوئی تھانے کے سابق تھانہ انچارج سمیت 12 پولیس اہلکاروں اور ایک دیگر شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک شخص کو ایسے وقت ڈکیتی کے مقدمے میں گرفتار دکھایا گیا، جب وہ پہلے ہی جیل میں قید تھا۔
یہ حکم سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر نے 24 دسمبر کو اوم ویر نامی شخص کی عرضی پر جاری کیا۔ عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ تین دنوں کے اندر تمام نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
عرضی گزار اوم ویر کے مطابق 25 اپریل 2022 کو بہجوئی تھانہ حلقہ میں ایک لاکھ روپے کی ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے 7 جولائی 2022 کو ایک مبینہ انکاؤنٹر دکھاتے ہوئے 19 موٹر سائیکلیں، لوٹی گئی رقم اور تین افراد—اوم ویر، دھیریندر اور اونیش—کی گرفتاری ظاہر کی۔
اوم ویر کا دعویٰ ہے کہ وہ 11 اپریل سے 12 مئی 2022 تک بدایوں جیل میں بند تھا اور اس مدت کے دوران کسی بھی مجرمانہ واقعے میں اس کی شمولیت ممکن ہی نہیں تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کر کے اسے جیل بھیج دیا، جسے اس نے سراسر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
عدالت نے جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں اُس وقت کے تھانہ انچارج پنکج لوانیا، کرائم برانچ انسپکٹر راہل چوہان، داروغہ پربودھ کمار، نریش کمار، نیرج کمار، جمیل احمد، سپاہی ورون، آیوش، راج پال، مالتی چوہان، دیپک کمار، ہیڈ کانسٹیبل روپ چندر اور ایک دیگر شخص درویش شامل ہیں۔البتہ عدالت نے سابق سرکل آفیسر گوپال سنگھ کو فی الحال اس معاملے میں راحت دی ہے۔
شکایت دہندہ اوم ویر نے کہا ہے کہ اس نے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے تعلق سے سنبھل کے ایس پی اور دیگر سینئر پولیس افسران سے بھی شکایت کی تھی، لیکن کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔دوسری جانب بہجوئی تھانہ کے سی او پردیپ کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس کو ابھی تک عدالتی حکم کی باضابطہ نقل موصول نہیں ہوئی ہے اور اس کی اطلاع انہیں میڈیا رپورٹس کے ذریعے ملی ہے۔
سنبھل کے ایس پی کرشن کمار بشنوئی نے واضح کیا ہے کہ پولیس فی الحال ایف آئی آر درج نہیں کرے گی بلکہ اس عدالتی حکم کو اوپری عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔یہ معاملہ ایک بار پھر فرضی انکاؤنٹر جیسے حساس اشوز پر پولیس نظام، شفافیت اور عدالتی نگرانی کے کردار کو مرکزِ بحث بنا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں ہائی کورٹ پر ہیں، جہاں اس معاملے کی آئندہ سماعت میں اہم رخ سامنے آ سکتا ہے۔



