
یوپی: بیٹے کی شادی کے فون نے کھول دی پول، 13 سال سے مفرور انعامی مجرم گرفتار
بیٹے کی شادی خوشی سے مصیبت بن گئی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یوپی کے باندہ میں بیٹے کی شادی کی تیاری ایک بدنام زمانہ مجرم کے لیے اس کی گرفتاری کا سبب بن گئی۔ پولیس نے 13 سال سے مفرور، ایک لاکھ روپے کے انعامی ہسٹری شیٹر سندیپ مشرا کو انکاؤنٹر کے بعد گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ایک خاندانی فون کال نے اس کی برسوں کی محنت سے بنائی گئی نئی شناخت کو بے نقاب کر دیا۔
45 سالہ سندیپ مشرا 2012 سے فرار تھا۔ 8 اگست 2012 کو اسے 12 دیگر ملزمان کے ساتھ باندہ جیل سے عدالت لے جایا جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے پولیس اہلکاروں پر مرچ پاؤڈر پھینکا، ایک کانسٹیبل سے رائفل چھین لی اور فائرنگ کر دی۔ اچانک پیدا ہوئی افراتفری میں تمام 13 ملزمان فرار ہو گئے۔پولیس نے 2015 تک باقی 12 ملزمان کو گرفتار کر لیا، مگر سندیپ مشرا طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے باہر رہا۔
پولیس کے مطابق سندیپ مشرا گزشتہ کئی برسوں سے پونے میں روپ بدل کر رہ رہا تھا۔ اس نے اپنا نام پپو تیواری رکھ لیا تھا جبکہ اس کی بیوی شیاما نے بھی شناخت بدل کر پوجا تیواری کے نام سے زندگی گزارنا شروع کر دی تھی۔وہ فیکٹریوں میں مزدوری کرتا رہا، مسلسل ٹھکانے بدلتا رہا اور جان بوجھ کر رشتہ داروں سے رابطہ محدود رکھا، یہاں تک کہ 13 برسوں میں باندہ بھی واپس نہیں آیا۔
باندہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پلّش بنسل کے مطابق مفرور مجرموں کی تلاش کے لیے بنائی گئی خصوصی ٹیم گزشتہ چھ ماہ سے سندیپ مشرا کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔اہم سراغ اس وقت ملا جب پولیس نے اس کی بیوی کی جانب سے اپنے والدین کو کی گئی فون کال کو ٹریس کیا، جس میں اترپردیش کے رشتہ داروں کو پونے میں بیٹے کی شادی میں شرکت کی دعوت دی جا رہی تھی۔
نگرانی کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ فون کال میں جن والدین کا ذکر ہے، ان کے نام سندیپ مشرا کے سسرالی رشتہ داروں سے میل کھاتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے خاموشی سے خاندانی تفصیلات، شناخت اور نقل و حرکت کی تصدیق کی، جس سے واضح ہو گیا کہ سندیپ مشرا بیٹے کی شادی کے لیے باندہ آنے والا ہے۔
اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے جال بچھایا۔ باندہ پہنچتے ہی پولیس سے مڈبھیڑ کے دوران انکاؤنٹر ہوا، جس کے بعد سندیپ مشرا کو گرفتار کر لیا گیا۔ زخمی حالت میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برسوں تک شناخت بدل کر اور مسلسل جگہیں بدل کر گرفتاری سے بچنے والا یہ مجرم بالآخر اپنے بیٹے کی شادی کی خوشی میں کی گئی ایک فون کال کی وجہ سے قانون کے شکنجے میں آ گیا۔ فی الحال اس سے پوچھ گچھ جاری ہے اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔



