ہماچل: کالج طالبہ کی سفاکانہ ریگنگ اور جنسی ہراسانی کے بعد موت، پروفیسر سمیت چار افراد پر مقدمہ
“مرنے سے پہلے طالبہ کی ویڈیو نے کالج میں مبینہ جنسی اور ذہنی ہراسانی کے خوفناک پہلو کو بے نقاب کر دیا۔”
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں ایک سرکاری کالج کی طالبہ کی موت کے بعد جنسی ہراسانی اور ریگنگ کا ایک نہایت سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک پروفیسر سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مرنے سے قبل طالبہ کی جانب سے ریکارڈ کی گئی موبائل ویڈیو نے پورے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب طالب علم کے موبائل فون سے اس کی موت سے قبل ریکارڈ کیا گیا ایک بیان منظرِ عام پر آیا۔ اس ریکارڈنگ میں طالب علم نے کالج کے ایک پروفیسر پر جنسی ہراسانی، ذہنی تشدد اور غیر اخلاقی رویے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ طالب علم کے مطابق پروفیسر نے نہ صرف کلاس روم بلکہ کالج کیمپس میں بھی اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متوفیہ طالبہ کالج میں دوسرے سال کی طالبہ تھی۔ اس نے اپنی ویڈیو میں الزام لگایا کہ کالج کے ایک پروفیسر نے اسے نامناسب طور پر چھوا، کلاس روم اور کیمپس میں ذہنی دباؤ اور جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ طالبہ کے مطابق جب اس نے احتجاج کیا تو اسے خاموش رہنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
طالبہ کے والد نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں بتایا کہ 18 ستمبر کو تین طالبات، جن کی شناخت ہرشیتا، اکرتی اور کومولیکا کے طور پر کی گئی ہے، نے مبینہ طور پر سفاکانہ ریاکنگ کے دوران ان کی بیٹی کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی۔ شکایت میں کالج کے پروفیسر اشوک کمار کو بھی نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ اور مبینہ جنسی ہراسانی کے باعث طالبہ کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ اس کا مختلف اسپتالوں میں علاج کرایا گیا، تاہم 26 دسمبر کو لدھیانہ کے ڈی ایم سی اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ شدید صدمے کے باعث وہ بروقت شکایت درج نہیں کرا سکے۔
طالبہ کے والد نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے 20 دسمبر کو پولیس اور وزیر اعلیٰ ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائی تھی، لیکن اس پر کوئی فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں، طالبہ کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد خاندان نے باضابطہ طور پر مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا۔
پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور ہماچل پردیش تعلیمی ادارہ جات (ریگنگ کی ممانعت) ایکٹ 2009 کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدا میں تحقیقات صرف ریگنگ کے زاویے سے کی جا رہی تھیں، تاہم پروفیسر کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شکایت وزیر اعلیٰ ہیلپ لائن کے ذریعے موصول ہوئی تھی، تاہم اس وقت طالبہ کی صحت خراب ہونے کے باعث اس کا بیان قلم بند نہیں کیا جا سکا۔ بعد ازاں والد کا بیان ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
دوسری جانب، کالج انتظامیہ نے خود کو اس معاملے سے الگ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبہ نے پہلے سال میں ناکامی کے باوجود دوسرے سال میں داخلہ لیا تھا، جبکہ کالج کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ طالبہ نے اس سے قبل انتظامیہ کو کوئی تحریری شکایت نہیں دی تھی۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور طالبہ کے علاج سے متعلق تمام اسپتالوں کا ریکارڈ بھی جانچا جائے گا۔



