یکم فروری 2026 سے سگریٹ مہنگی، حکومت نے نیا ٹیکس نظام نافذ کر دیا
قیمت کا تعین اب لمبائی اور فلٹر سے ہوگا-سگریٹ پر جی ایس ٹی کے ساتھ دوبارہ ایکسائز ٹیکس عائد
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یکم فروری 2026 سے بھارت میں سگریٹ نوشی کرنے والوں پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ پڑنے جا رہا ہے، کیونکہ مرکزی حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس وصولی کے نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اشیائے و خدمات ٹیکس کے علاوہ سگریٹ پر دوبارہ مرکزی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، جو سال 2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد پہلی بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔
نئے نظام کے مطابق اب سگریٹ کی قیمت کا انحصار صرف برانڈ پر نہیں ہوگا بلکہ اس کی لمبائی اور یہ کہ وہ فلٹرڈ ہے یا نان فلٹرڈ، اس بنیاد پر ٹیکس کا تعین کیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ ایکسائز ڈیوٹی فی ایک ہزار سگریٹ وصول کی جائے گی اور اس میں سگریٹ کی مکمل لمبائی، بشمول فلٹر، شمار کی جائے گی۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 2,050 روپے سے لے کر 8,500 روپے فی ایک ہزار سگریٹ تک مقرر کی گئی ہے۔ 65 ملی میٹر تک کے نان فلٹر سگریٹ پر تقریباً دو روپے فی سگریٹ کے حساب سے ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ اسی لمبائی کے فلٹر سگریٹ پر یہ شرح قدرے زیادہ رہے گی۔ 65 سے 70 ملی میٹر لمبے سگریٹ پر فی سگریٹ تین سے چار روپے کے درمیان ڈیوٹی وصول کی جائے گی، جبکہ 70 سے 75 ملی میٹر کے سگریٹ پر یہ ٹیکس پانچ روپے سے زائد ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس والا سلیب صرف غیر معمولی یا خاص ڈیزائن والے سگریٹ پر لاگو ہوگا، جس میں زیادہ تر مقبول برانڈز شامل نہیں ہیں۔ تاہم لمبے، فلٹرڈ اور پریمیم سگریٹ اس نئی پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ چھوٹے اور نان فلٹر سگریٹ کی قیمتوں میں نسبتاً کم اضافہ متوقع ہے۔
نئی ایکسائز ڈیوٹی جی ایس ٹی کے علاوہ عائد کی جائے گی، جو سگریٹ پر مختلف زمروں میں لاگو ہے۔ اسی کے ساتھ تمباکو مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی کمپنسیشن سیس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کے بعد بھی بھارت میں سگریٹ پر مجموعی ٹیکس ریٹیل قیمت کا تقریباً ترپن فیصد رہے گا، جو عالمی سطح پر تجویز کردہ شرح سے کم ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں یکم فروری 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ حکومت نے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو محدود عبوری مدت دی ہے تاکہ وہ قیمتوں میں رد و بدل، نظام میں تبدیلی اور پیکجنگ کی تیاری مکمل کر سکیں۔ امکان ہے کہ فروری کے آغاز کے ساتھ ہی صارفین کو دکانوں پر سگریٹ کی نئی اور زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔



