ایران کی سلامتی سرخ لکیر، مداخلت کرنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا: علی شمخانی کا سخت انتباہ
ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف جاری احتجاج کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے تحفظ کے بیان کے فوراً بعد ایرانی قیادت نے سخت اور دوٹوک ردعمل دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر اور سابق اعلیٰ سلامتی عہدیدار علی شمخانی نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کی سلامتی ایک ناقابلِ عبور سرخ لکیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سلامتی میں مداخلت کرنے والا یا اس کے قریب آنے والا ہر ہاتھ، پہنچنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے گا اور اس کا جواب انتہائی سخت اور مہنگا ہوگا۔
علی شمخانی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ایرانی عوام امریکہ کی جانب سے خطے میں کی جانے والی مداخلتوں کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان یا غزہ کی پٹی۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کسی بھی بیرونی دباؤ یا اشتعال انگیز بیانات کا موضوع نہیں بن سکتی۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بھی امریکہ اور اسرائیل پر ایران میں احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کسی قسم کی مہم جوئی کی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری براہِ راست امریکی قیادت پر عائد ہوگی۔
ادھر ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے زور دے کر کہا کہ مسلح افواج ملک کے خلاف کسی بھی خطرے کا بغیر کسی رعایت کے جواب دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کسی صورت غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران میں امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ احتجاج کا دائرہ دارالحکومت سے نکل کر مختلف صوبائی اور دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
حکام کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے یونینز اور تاجروں کے نمائندوں سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔
یہ مظاہرے 2022 کے بعد سب سے بڑے عوامی احتجاج قرار دیے جا رہے ہیں، جب مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور پابندیوں کے باعث کمزور ہوتی معیشت موجودہ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں، جس نے ایران کو ایک بار پھر داخلی اور خارجی دباؤ کے دوہرے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔



