بین الاقوامی خبریں

وینزویلا پر امریکی کارروائی، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ

تیل سے مالا مال وینزویلا غریب کیوں؟ امریکہ کی نظریں اور پس منظر

واشنگٹن (اردودنیا.اِن/ایجنسیز): وینزویلا اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک اور خطرناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں سیاسی بے یقینی، عسکری کشیدگی اور عالمی دباؤ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک خفیہ اور مربوط کارروائی کے دوران حراست میں لے لیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق دارالحکومت کراکس سمیت کئی حساس مقامات پر منصوبہ بند کارروائیاں کی گئیں، جن میں مختلف امریکی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی شامل تھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو فضائی راستے سے وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس آپریشن کی مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

امریکی حملے اور ان دعوؤں کے بعد وینزویلا میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ امریکی ذرائع کی جانب سے گرفتار مادورو کی مبینہ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، تاہم وینزویلا کی حکومت نے ان تصاویر کو جعلی، من گھڑت اور نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اسی دوران امریکی اٹارنی جنرل بونڈی نے اعلان کیا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف منشیات سے متعلق دہشت گردی، کوکین اسمگلنگ، بھاری اسلحے کے غیر قانونی استعمال اور امریکہ کے خلاف سازش جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی امریکی عدالتوں میں ان مقدمات کی باضابطہ کارروائی شروع کی جائے گی۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ نے امریکی کارروائی کو بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی طاقت اور ریاستی اتحاد کے سامنے کوئی جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاکہ عالمی سطح پر اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے عوام سے پُرسکون رہنے اور ملکی قیادت و مسلح افواج پر مکمل اعتماد رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اسی دوران نائب صدر نے سرکاری نشریاتی خطاب میں واضح کیا کہ حکومت کو صدر اور ان کی اہلیہ کے مبینہ ٹھکانے سے متعلق کوئی مصدقہ اور قابلِ تصدیق معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اگر گرفتاری کا دعویٰ درست ہے تو اس کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیا جائے، تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

دارالحکومت کراکس میں حالیہ دنوں جنگ جیسی صورتحال نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ رات گئے زور دار دھماکوں اور فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک وینزویلا آج بھی معاشی بدحالی کا شکار کیوں ہے اور امریکہ کی نظریں اس جنوبی امریکی ریاست پر کیوں مرکوز ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی قیادت پر منشیات کے نیٹ ورک سے مبینہ روابط سمیت مختلف سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جنہیں کراکس نے ہمیشہ بے بنیاد اور سیاسی دباؤ کا حربہ قرار دیا ہے۔ ان بیانات اور اقدامات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

وینزویلا قدرتی وسائل کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ صدر مادورو کے مطابق ملک کے پاس کھربوں ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں۔ تیل کے ساتھ ساتھ نایاب معدنیات بھی وینزویلا کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ایک آئل ٹینکر کی ضبطی کے بعد وینزویلا نے امریکہ پر اپنے قدرتی وسائل پر قبضے کی کوشش کا الزام عائد کیا، جسے اس نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

گزشتہ ماہ وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کی گرفتاری نے تنازع کو مزید ہوا دی۔ اس ٹینکر پر تیل کی ترسیل کے الزامات عائد کیے گئے، جنہیں وینزویلا نے سختی سے مسترد کیا، جبکہ اس معاملے میں ایران کا نام بھی لیا گیا۔ وینزویلا نے اس کارروائی کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قزاقی سے تعبیر کیا۔

ماہرین کے مطابق تیل کے بے پناہ ذخائر کے باوجود وینزویلا کی معاشی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اس کا بھاری خام تیل ہے، جو مشرقی خطے میں اورینوکو بیلٹ میں پایا جاتا ہے۔ یہ تیل نہایت گاڑھا اور سلفر سے بھرپور ہوتا ہے، جسے نکالنا اور صاف کرنا انتہائی مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل ہے۔ عالمی منڈی میں اس تیل کی قیمت نسبتاً کم لگتی ہے، جبکہ لاگت کہیں زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث منافع محدود رہتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دعوے درست ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ صورتحال نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق اور مستند معلومات کا انتظار عالمی برادری کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button