بین ریاستی خبریں

’بیس ہزار میں شادی‘‘ کا بیان: اتراکھنڈ کی وزیر کے شوہر پر خواتین کی توہین کا الزام

بہار کی خواتین سے متعلق بیان پر اتراکھنڈ حکومت شرمندہ

جھارکھنڈ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتراکھنڈ کی خواتین و اطفال بہبود کی وزیر ریکھا آریہ کے شوہر گِردھاری لال ساہو ایک متنازع بیان کے باعث سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک عوامی پروگرام کے دوران کہا کہ بہار کی لڑکیاں شادی کے لیے 20 سے 25 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔ یہ بیان گزشتہ ماہ الموڑا میں منعقدہ ایک تقریب سے منسوب بتایا جا رہا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

ویڈیو میں مبینہ طور پر ساہو کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کی عمر زیادہ ہو گئی ہو اور شادی نہ ہو پا رہی ہو تو وہ بہار سے دلہن لا سکتے ہیں۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کانگریس نے اسے خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے اور حکمراں جماعت سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی خواتین کی عزت کے خلاف ہے۔ پارٹی کی خواتین ونگ کی رہنماؤں نے بھی اس تبصرے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سوچ انسانی اسمگلنگ، کم عمری کی شادی اور خواتین کے استحصال جیسے سماجی مسائل کو بڑھاوا دیتی ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت نے اس بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساہو کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور خواتین کے خلاف کسی بھی نفرت انگیز سوچ یا بیان کی سختی سے مخالفت کی جاتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں تنظیمی سطح پر کوئی حمایت نہیں کی جائے گی۔

معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب بہار اسٹیٹ ویمن کمیشن نے بھی اس بیان پر نوٹس جاری کرنے کا اعلان کیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن نے کہا کہ یہ بیان انتہائی قابل مذمت ہے اور اس سے خواتین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور تضحیک آمیز ذہنیت ظاہر ہوتی ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

تنازع بڑھنے پر گِردھاری لال ساہو نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور وہ کسی دوست کی شادی کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو وہ ہاتھ جوڑ کر معذرت کرتے ہیں۔ تاہم، اس وضاحت کے باوجود سیاسی ہنگامہ جاری ہے اور مختلف حلقے اس معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button