بین الاقوامی خبریںسرورق

موت کی دہلیز پر جھولتا بچپن، بند کراسنگز نے غزہ کے معصوموں کو زندہ اذیت میں دھکیل دیا

“یہاں بچے بیماری سے نہیں، علاج نہ ملنے سے مر رہے ہیں۔”

غزہ 5/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انتہائی نگہداشت کے بستر اور بے گھر خاندانوں کے خیموں کے درمیان دو ننھی جانوں—عمر ابو یوسف اور میس معمر کی کہانیاں آپس میں یوں گتھم گتھا ہو جاتی ہیں کہ ایک کی سسکی دوسری کی سانس میں سنائی دیتی ہے۔ یہ محض دو بچوں کی داستان نہیں، یہ غزہ پٹی کے ان ہزاروں معصوم جسموں کی تصویر ہے جو بیماری، بھوک اور بے بسی کے محاصرے میں قید ہیں، اور جن کی زندگیوں پر اسرائیل کی بند کی گئی کراسنگز کا پہرا ہے۔ یہاں دکھ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ امید خود بھی تھک کر بیٹھ گئی ہے، اور علاج اب خواب سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔

غزہ کے ایک اسپتال میں نو ماہ کا شیر خوار عمر ابو یوسف زندگی اور موت کے درمیان معلق پڑا ہے۔ مشینوں کی آوازیں اس کی سانسوں کا حساب رکھتی ہیں، اور ماں کی آنکھیں ہر لمحہ کسی انہونی کے خوف سے بھری رہتی ہیں۔ عمر اپنے خاندان کی واحد امید ہے، مگر پیدائش کے پہلے دن سے ہی درد اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا۔ اس ننھی جان نے کبھی محفوظ بچپن، کبھی سکون کی نیند، کبھی ماں کی گود میں بے فکری کا لمحہ نہیں دیکھا۔

پیدائشی آنتوں کی بندش نے اس کے جسم کو شروع ہی سے قید کر رکھا تھا۔ جب فضلہ قدرتی راستے سے خارج نہ ہو سکا تو ڈاکٹروں کو اس کی جان بچانے کے لیے اس کے نرم پیٹ میں مفاغرہ بنانا پڑا۔ یہ ایک ایسا زخم تھا جو جسم پر بھی تھا اور ماں کے دل پر بھی۔

بعد کے معائنے نے تکلیف کے دروازے اور کھول دیے۔ مقعد کے مقام پر اعصابی خلیات موجود نہیں تھے، جبکہ مفاغرہ کی جگہ یہ خلیات پائے گئے۔ یوں عمر کی بیماری کسی ایک تشخیص میں سمٹنے کے بجائے ایک پیچیدہ، خطرناک اور طویل اذیت میں بدل گئی۔

نایاب بیماری، عام ہوتی موت

مفاغرہ ایک جراحی سوراخ ہوتا ہے جو پیٹ کی دیوار میں اس وقت بنایا جاتا ہے جب قدرتی راستہ ناکام ہو جائے۔ مگر عمر کے لیے یہ سہارا بھی عذاب بن گیا۔

صحافی عمرو طبش کی تصویری رپورٹ میں عمر کی ماں کانپتی آواز میں بتاتی ہیں کہ آنتوں کی شدید بندش کے باعث اس کے بچے کا کمزور جسم ناک کے ذریعے فضلات خارج کرنے لگا۔ یہ ایک نہایت نایاب اور جان لیوا کیفیت تھی، جس نے لمحوں میں اس کے جسم سے زندگی کی رطوبت نچوڑ لی اور گردوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

غزہ کے اسپتالوں میں آلات، ٹیسٹ اور سہولتوں کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹر اس کی مکمل جانچ یا خصوصی جراحی مداخلت سے قاصر رہے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو عمر گردوں کی ناکامی یا مہلک پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے گا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس بچے کی زندگی بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسے فوری طور پر غزہ سے باہر منتقل کیا جائے، مگر اسرائیل کی بند کی گئی کراسنگز نے اس فوری ضرورت کو ایک ایسے بے رحم انتظار میں بدل دیا ہے جس کی کوئی آخری تاریخ نہیں۔

میس: بھوک، بیماری اور خاموش مشینوں کے بیچ ایک معصوم جنگ

خان یونس میں ناصر اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں چھ ماہ کی میس معمر خاموش پڑی ہے۔ نہ رونے کی طاقت، نہ ہنسنے کی سکت۔ اس کی پیدائش صرف 1.4 کلوگرام وزن کے ساتھ ہوئی تھی—ایک ایسا کمزور آغاز جو حمل کے دوران ماں کو درپیش شدید غذائی قلت کا نتیجہ تھا۔ یہ غذائی قلت اسرائیل کی مسلط کردہ بھوک کی پالیسی کا زندہ ثبوت ہے۔

میس نے دنیا میں آنکھ کھولی تو اس کے ننھے وجود پر بیماریوں کا بوجھ پہلے ہی لدا ہوا تھا۔ ڈاؤن سنڈروم، شدید غذائی قلت، دل میں سوراخ، اور صرف ایک گردہ—وہ بھی پتھری کا شکار۔ اس کے والد مراد یہ سب بتاتے ہوئے خود کو سنبھال نہیں پاتے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب وہ اپنی بیٹی کے اردگرد لگی مشینوں کو دیکھتے ہیں تو دل ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ ہر گزرتا دن اس کے جسم کو مزید کمزور کر رہا ہے، اور ادویات ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ مراد کی آواز رندھ جاتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ غزہ میں لوگ گولیوں یا بموں سے نہیں، بلکہ دوائی نہ ملنے سے مر رہے ہیں۔

میس کی کہانی غزہ کے اجتماعی انسانی سانحے سے جدا نہیں۔ یہاں تقریباً پندرہ لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو خیموں اور پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ صاف پانی ہے، نہ مناسب خوراک، نہ علاج۔ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے باوجود حالات میں کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق کراسنگز کی بندش کے باعث ادویات کی نصف سے زیادہ اقسام ختم ہو چکی ہیں اور تقریباً ستر فیصد طبی سامان دستیاب نہیں۔ اسپتال محض زندگی بچانے کے چند آخری اقدامات تک محدود ہو گئے ہیں، جبکہ سینکڑوں بچے تشخیص اور علاج کے حق سے محروم ہیں۔

ناصر اسپتال میں بچوں کے انتہائی نگہداشت شعبے کے سربراہ محمد عابد کہتے ہیں کہ غزہ کا صحت نظام دم توڑ رہا ہے۔ نہ ٹیسٹ موجود ہیں، نہ ادویات، نہ مریضوں کو باہر بھیجنے کی اجازت۔ ان کے مطابق میس جیسے کئی بچے مہینوں سے ریفرل تھامے بیٹھے ہیں، مگر بند کراسنگز نے ان کاغذوں کو بے جان بنا دیا ہے۔

قاتل خاموشی کا طویل انتظار

نسل کش جنگ کے دوران اسپتال، طبی مراکز، ادویات کے گودام اور طبی عملہ سب نشانے پر رہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود وزارت صحت خبردار کر چکی ہے کہ صحت کا نظام مسلسل دباؤ اور شدید مشکلات کے باعث تقریباً مفلوج ہو چکا ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جولائی 2024ء سے نومبر 2025ء کے درمیان کم از کم 1092 مریض صرف اس انتظار میں مر گئے کہ انہیں غزہ سے باہر علاج کے لیے نکالا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

عمر، جو زندگی بچانے والے آپریشن کا منتظر ہے، اور میس، جو بھوک اور پیدائشی بیماریوں سے لڑ رہی ہے۔ان دونوں کے درمیان غزہ کے بچوں کی ایک پوری نسل کی سسکتی ہوئی تصویر کھڑی ہے۔یہ وہ نسل ہے جس کے لیے کراسنگز کا کھلنا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں، بلکہ زندگی اور موت کے درمیان واحد دروازہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button