بین ریاستی خبریںسرورق

بنگلہ دیشی ہونے کے دعوے کی حقیقت پولیس تفتیش میں سامنے آگئی

تیس سالہ گونگے بہرے شخص کو پولیس اسٹیشن لے آئے

باگیشور/5-جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)  اتراکھنڈ کے ضلع باگیشور میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معذور نوجوان کو بنگلہ دیشی قرار دے کر تھانے لایا گیا، تاہم پولیس کی بروقت اور سنجیدہ تفتیش نے ساری حقیقت بے نقاب کر دی۔

یہ واقعہ کپکوٹ تھانے کے علاقے میں پیش آیا، جب تین مقامی نوجوان ایک تقریباً تیس سالہ گونگے بہرے شخص کو پولیس اسٹیشن لے آئے اور دعویٰ کیا کہ وہ مشتبہ بنگلہ دیشی شہری ہے۔ نوجوان کے بولنے سے قاصر ہونے کے باعث فوری طور پر اس کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔

تھانہ انچارج پرتاپ سنگھ ناگرکوٹی نے نوجوان کے لباس، حلیے اور رویے کو دیکھتے ہوئے اس کے مقامی ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔ اس کے بعد پولیس نے قریبی دیہات میں نوجوان کی تصویر گردش کر کے شناخت کا عمل شروع کیا، جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ یہ شخص دیویندر عرف ببلو ولد ہریش رام ہے جو گادوا سرمولی گاؤں، کنڈا تھانہ کا رہائشی ہے۔

اطلاع ملنے پر نوجوان کے والد ہریش رام پولیس اسٹیشن پہنچے اور بتایا کہ ان کا بیٹا پیدائشی طور پر گونگا بہرا ہے اور کچھ عرصہ قبل گھر سے راستہ بھٹک گیا تھا، جس کی تلاش میں اہل خانہ مسلسل پریشان تھے۔ شناخت کی تصدیق کے بعد پولیس نے نوجوان کو بحفاظت اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔

پولیس کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نوجوان کو تھانے لانے والے تینوں افراد نے بغیر کسی ثبوت کے اسے بنگلہ دیشی قرار دے کر علاقے میں جھوٹی افواہیں پھیلائیں۔ اس پر پولیس نے بھاسکر کپکوٹی ولد کھم سنگھ کپکوٹی، گولو عرف گورو ولد دروان سنگھ کپکوٹی اور جتیندر تروا عرف جیتو ولد للت پرساد کے خلاف انڈین سول سیکیورٹی کوڈ کی دفعہ 126 اور 135 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف بغیر ثبوت الزامات لگانا قانوناً جرم ہے اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button