
مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ہدایت پٹیل اکولہ میں چاقو حملے کے بعد جاں بحق
ہدایت پٹیل نماز کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ اسی وقت۔۔۔
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ہدایت پٹیل اکولہ میں چاقو کے وحشیانہ حملے کے بعد بدھ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ وہ منگل کے روز اکولہ ضلع کے اکوت شہر میں حملے کا شکار ہوئے تھے اور زیر علاج تھے، تاہم دورانِ علاج ان کی حالت بگڑ گئی۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں 25 سالہ ملزم عبید پٹیل کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو مقتول کے ہی طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ قریبی سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہو گیا تھا، جس کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری ممکن ہوئی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ کی وجہ فوری سیاسی کشیدگی نہیں بلکہ پرانی ذاتی اور خاندانی دشمنی تھی۔
اکولہ پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو دوپہر تقریباً دو بجے پیش آیا۔ ہدایت پٹیل نماز کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ اسی وقت موجود عبید پٹیل نے ان پر اچانک چاقو سے متعدد وار کر دیے اور موقع سے فرار ہو گیا۔
حملے کے بعد ملزم قریبی جنگلاتی علاقے میں چھپ گیا، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاش کی کارروائی شروع کی۔ تقریباً چالیس پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن چلایا، جس کے بعد ملزم کو منگل کی شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزم نے پولیس کو بتایا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان طویل عرصے سے دشمنی چلی آ رہی تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ ہدایت پٹیل اس کے خاندان کی ترقی اور اثر و رسوخ میں مسلسل رکاوٹ بن رہے تھے۔ ملزم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 2019 میں چچا متین پٹیل کے قتل میں ہدایت پٹیل کا کردار تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام دعوؤں کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔
حملے کے فوراً بعد ہدایت پٹیل خود چل کر مقامی اسپتال پہنچے تھے، تاہم بعد میں ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ جس کے بعد انتظامیہ نے گرین کوریڈور بنا کر انہیں اکولہ کے ایک بڑے اسپتال منتقل کیا۔ علاج کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہدایت پٹیل کا موجودہ بلدیاتی انتخابات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ اکوت علاقہ دیہی حدود میں آتا ہے اور بلدیاتی دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے کا کوئی بالواسطہ سیاسی پہلو ہے یا یہ مکمل طور پر ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔



