کوئی کیسے جان لے کہ کتا کاٹے گا یا نہیں؟‘ آوارہ کتوں پر سپریم کورٹ
آوارہ کتوں کا خطرہ سنگین، راجستھان ہائی کورٹ کے جج بھی حادثات کا شکار: سپریم کورٹ
نئی دہلی 7/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک بھر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر سپریم کورٹ نے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ مسئلہ محض جانوروں کی فلاح تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست عوامی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’’کوئی یہ نہیں جان سکتا کہ کتا کب پرسکون رہے گا اور کب اچانک جارحانہ ہو جائے گا۔‘‘
بدھ 7 جنوری کو ہونے والی سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ آوارہ جانوروں کی سڑکوں پر موجودگی کے باعث گزشتہ بیس دنوں کے دوران راجستھان ہائی کورٹ کے دو معزز جج حادثات کا شکار ہوئے، جن میں سے ایک جج اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی سنگین چوٹ میں مبتلا ہیں۔ اس انکشاف کے بعد بنچ نے معاملے کی سنگینی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ اس معاملے میں ہر فریق کو مکمل موقع دیا جائے گا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ پہلے متاثرین کی بات سنی جائے گی اور اس کے بعد جانوروں کے حامیوں کے دلائل پر غور ہوگا، تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ اس کی آواز نہیں سنی گئی۔
عدالت نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس 7 نومبر کو تعلیمی اداروں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، سرکاری دفاتر اور دیگر عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے واضح احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ مناسب نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد کتوں کو مخصوص پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے، نہ کہ انہیں دوبارہ وہیں چھوڑ دیا جائے جہاں سے پکڑا گیا ہو۔
سماعت کے دوران امیکس کیوری گورو اگروال نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے معیاری عملی طریقہ کار تیار کر لیا ہے، تاہم تقریباً چودہ سو کلومیٹر پر مشتمل حساس علاقوں کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جانوروں کو شیلٹر میں رکھنے کے لیے انفراسٹرکچر اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
عدالت کو یہ اطلاع بھی دی گئی کہ کئی ریاستوں نے تاحال اپنے حلف نامے داخل نہیں کیے، جن میں مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک اور پنجاب جیسی بڑی ریاستیں شامل ہیں۔ اس پر عدالت نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تحفظ سے جڑے معاملے میں کسی قسم کی تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔
سینئر وکلاء کی جانب سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن میں کتوں کی مردم شماری، غیر ضروری افزائش پر قابو، اور طویل مدتی منصوبہ بندی شامل تھی۔ عدالت نے کہا کہ آوارہ کتوں کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ تمام آراء اور تجاویز سننے کے بعد ہی کوئی حتمی اور جامع فیصلہ کیا جائے گا، اسی لیے اس حساس معاملے پر سماعت آئندہ روز بھی جاری رہے گی۔



